خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 152

152 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مقابل میں بنادی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اور اد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے ( حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسی الاول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا ہے ) کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: 15) الحکم جلد 7 نمبر 20 مورخہ 31 مئی 1903 ء صفحہ 9) دوسری بات جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے نمازوں کے ساتھ مالی قربانیوں کی طرف توجہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً احمدی مالی قربانی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔لیکن اس میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جو قربانیاں کرنے والے ہیں بار بار ہر مالی قربانی میں وہی لوگ حصہ ڈالتے چلے جاتے ہیں۔لیکن ایک طبقہ جن کی کشائش بہت زیادہ ہے، جن کی استطاعت زیادہ ہے، وہ اس کے مطابق اپنے چندوں کی ادائیگی نہیں کرتے۔میں نے نماز کے سلسلے میں ذکر کیا تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ خلافت کے ذریعہ تمکنت عطا کرنے کا وعدہ فرماتا ہے ، وہاں اسے اپنی عبادت سے مشروط کرتا ہے اور اگلی آیت میں عبادت کی وضاحت کی کہ نماز کو قائم کرنے والے لوگ ہوں گے۔لیکن جہاں یہ ذکر ہے کہ نماز کو قائم کرنے والے ہوں گے وہ صرف نماز کے بارے میں ہی نہیں فرمایا، بلکہ ساتھ ہی فرمایا کہ وَاتُوا الزَّكواةَ (النور: (57) کہ زکوة ادا کرو۔زکوۃ اور مالی قربانی بھی استحکام خلافت اور تمہارے اس انعام پانے کا ذریعہ ہے۔اور پھر آگے فرمایا وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون (النور: (57) اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے مسیح و مہدی کو مانا جس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے خلافت کی دائمی خوشخبری فرمائی تھی۔پس خلافت کا نظام بھی اطاعت رسول کی ایک کڑی ہے اور اس دور میں اگر دین کی ضروریات کے لئے مالی تحریکات کی جاتی ہیں جو اگر زکوۃ سے پوری نہ ہو سکیں تو یہ عین اللہ اور رسول کی منشاء کے مطابق ہے۔خود رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زکوۃ سے بڑھ کر جو اخراجات ہوتے تھے ان کے لئے چندہ لیا جاتا تھا۔یہ ٹھیک ہے کہ زکوۃ