خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد پنجم 151 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء تعلق ہے۔اور عبادت کیا ہے؟ نماز ہی ہے۔جہاں مومنوں سے دلوں کی تسکین اور خلافت کا وعدہ ہے وہاں ساتھ ہی اگلی آیت میں اَقِيْمُوا الصَّلوةَ (النور: (57) کا بھی حکم ہے۔پس تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ عبادت اور نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس انعام کے بعد اگر تم میرے شکر گزار بنتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ نہیں دو گے تو نافرمانوں میں سے ہو گے۔پھر شکر گزاری نہیں نا شکر گزاری ہو گی اور نافرمانوں کے لئے خلافت کا وعدہ نہیں ہے بلکہ مومنوں کے لئے ہے۔پس یہ اختباہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اپنی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ نظام خلافت کے فیض تم تک نہیں پہنچیں گے۔اگر نظام خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرو کہ يَعْبُدُونَنِي (النور : 56) یعنی میری عبادت کرو۔اس پر عمل کرنا ہوگا۔پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا ، جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔گزشتہ دنوں پاکستان سے آنے والے کسی شخص نے مجھے لکھا کہ میں ربوہ گیا تھا وہاں فجر اور عشاء پر مسجدوں میں حاضری بہت کم لگی۔یہ وہاں والوں کے لئے لمحہ فکر یہ بھی ہے۔ربوہ تو ایک نمونہ ہے اور گزشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس طرف بہت توجہ ہوگئی تھی۔آنے جانے والوں کی بھی بڑی رپورٹس آتی تھیں کہ ربوہ میں مسجدوں کی حاضری بڑھ گئی ہے بلکہ بازاروں میں بھی کاروبار کے اوقات میں دکانیں بند کر کے نمازیں ہوا کرتی تھیں۔گو کہ مجھے اس شخص کی بات پر اتنا یقین تو نہیں آیا۔میں تو ربوہ کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتا ہوں لیکن اگر اس میں سستی پیدا ہو رہی ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اس طرف خود توجہ کرنی چاہئے۔ایک کوشش جو آپ نے کی تھی ، نیکیوں کو اختیار کرنے کا جو ایک قدم بڑھایا تھا وہ قدم اب آگے بڑھتا چلا جانا چاہئے۔اللہ کرے کہ میرا حسن ظن ہمیشہ قائم رہے۔اسی طرح عمومی طور پر پاکستان میں بھی اور دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں، نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ افراد جماعت اور خلیفہ وقت کا دوطرفہ تعلق اُس وقت زیادہ مضبوط ہو گا جب عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو پاک نمونے پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نمازوں کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں حمد الہی ہے ، استغفار ہے اور در دو شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یعنی تمام قسم کے درد اسی میں ہیں ” یہی نماز ہے۔اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے الا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب (الرعد: 29)۔اطمینان سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔لوگوں نے قسم