خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 150

خطبات مسرور جلد پنجم 150 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء ان سے قریب ہوں۔(مسلم کتاب الصلواة باب تسوية الصفوف حدیث : 858) تو صفیں سیدھی کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔آپس میں تعلقات کے لئے بھی اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے لئے بھی۔صفیں سیدھی کرنے کے ضمن میں یہاں میں آج عورتوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں ، یہ عمومی شکایت عورتوں کی طرف سے آتی ہے، یہاں بھی اور مختلف ممالک میں جب بھی میں دورے پر جاؤں عموماً عورتیں جمعہ پر اور جمعہ کے علاوہ بھی مسجد میں بعض دفعہ نماز پڑھنے آجاتی ہیں۔لیکن شکایت یہ ہوتی ہے کہ عورتیں صفیں سیدھی نہیں رکھتیں اور لجنہ کی انتظامیہ بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتی۔بلکہ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عہدیداران خود بھی ٹیڑھی میڑھی صفوں میں کھڑی ہوتی ہیں، بیچ میں فاصلہ ہوتا ہے، خاص طور پر جلسے کے دنوں میں یا کسی مار کی وغیرہ میں اگر صفیں بن رہی ہوں۔بلکہ بعض دفعہ جب یہاں ہال میں عورتیں نمازیں پڑھتی ہیں تو یہاں بھی اب عموماً یہ شکایت ہوتی ہے کہ بعض بیمار اور بڑی عمر کی عورتیں کرسیاں صفوں کے بیچ میں رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔کرسی پر بیٹھنے والیاں جن کو مجبوری ہے وہ یا تو ایک طرف کرسی رکھا کریں یا جس طرح یہاں انتظام ہے کہ پیچھے کرسیاں رکھی جاتی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ نماز کے آداب میں سے صفوں کو سیدھا رکھنا انتہائی ضروری چیز ہے اور آنحضرت ﷺ اس بات کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ خطبہ جمعہ بھی نماز کا حصہ ہے۔بعض عورتیں اور بچیاں جو شاید سکولوں میں چھٹیوں کی وجہ سے آجکل مسجد میں آ جاتی ہیں لگتا ہے کہ وہ نماز کی بجائے اس نیت سے اس میں آتی ہیں کہ سہیلیوں اور دوستوں سے ملاقات ہو جائے گی اور یہ جوئیں نے کہا ہے کہ ملاقات ہو جائے گی تو وہ اس غرض سے اس میں آتی ہیں۔یہ میں بدظنی نہیں کر رہا بلکہ بعضوں کے عمل اس بات کا ثبوت ہیں۔مثلاً گزشتہ جمعہ کی یہاں کی رپورٹ مجھے ملی کہ بعض بچیاں خطبے کے دوران اپنے اپنے موبائل پر یا تو ٹیکسٹ میسیجز (Text Messages) بھیج رہی تھیں اور یا با تیں کر رہی تھیں اور اس طرح دوسروں کا خطبہ جمعہ بھی خراب کر رہی تھیں جو وہ سن نہیں سکیں۔یہی شکایت بعض چھوٹے بچوں کے بارے میں آتی ہے۔آجکل ہر ایک کو ماں باپ نے موبائل پکڑا دیئے ہیں۔حکم تو یہ ہے کہ اگر خطبہ کے دوران کوئی بات کرے اور اسے روکنا ہو تو ہاتھ کے اشارے سے روکو کیونکہ خطبہ بھی نماز کا حصہ ہے۔یہ بظاہر چھوٹی باتیں ہیں لیکن بڑی اہمیت کی حامل ہیں اس لئے ان کا خیال رکھنا چاہئے۔اگر کسی نے اتنی ضروری پیغام رسانی کرنی ہے یا فون کرنا ہے کہ جمعہ کے تقدس کا بھی احساس نہیں اور مسجد کے تقدس کا بھی احساس نہیں تو پھر گھر بیٹھنا چاہئے ، دوسروں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہئے۔عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ مسجد آ کر دوسروں کی نماز میں خراب کی جائیں۔نماز با جماعت کا اصل مقصد دلوں کی کجی دور کرنا اور آپس میں محبت پیدا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ہو کر جھکنا ہے تا کہ ایک ہو کر واحد خدا کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں ، نہ کہ دلوں میں نفرتیں بڑھیں اور دوسروں کی تکلیف کا باعث بنیں۔پس یا درکھیں جہاں ایک مومن کے لئے نماز کا قیام انتہائی اہم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا ہے وہاں مسجد کا تقدس بھی بڑا اہم ہے۔نمازوں کے حوالے سے ہی میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں ہمیشہ یادرکھیں کہ خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا