خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 149

خطبات مسرور جلد پنجم 149 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء کہ کفر اور صلوٰۃ کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔پس اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔صرف اتنا نہیں کہ تارک نماز نماز کو چھوڑنے والا یا نمازوں میں کمزوری دکھانے والا ، کمزور ایمان والا ہے۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ کفر اور ایمان میں فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔پھر اس بات کا صحابہ کو اس قدر خیال تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ میں یہ بات راسخ فرما دی تھی، ان کو اس بات پر بڑا پکا کر دیا تھا۔اور انکو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا اس درجہ احساس دلا دیا تھا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن شقیق تحقیکی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ نماز کے علاوہ کسی عمل کو بھی ترک کرنا کفر نہ سمجھتے تھے۔(ترمذی ابواب الایمان باب ما جاء في ترك الصلواة حديث : 2622) پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا، کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔پھر میں نے عرض کی کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری پوری کوشش کرنا۔(بخاری کتاب الجهاد باب فضل الجهاد و السير حدیث : 2782) پھر ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پائی۔اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں؟ اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی نوافل کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہوگا اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔(ترمذی ابواب الصلواة باب ان اوّل ما يحاسب به العبد حدیث (413) پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے میرا بھی عبادت اور قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے یہ نوافل ہی ہیں۔بعض دفعہ بعض مصروفیات کی وجہ سے نمازیں آگے پیچھے ہو جاتی ہیں یا پورے خشوع سے ادا نہیں کی جاسکتیں تو فرمایا کہ نوافل کی ادائیگی کرو وہ اس کمی کو پوری کر دے گی۔نماز باجماعت کے ضمن میں ہی ایک اہم بات یہ ہے کہ مسجد میں آ کے ہم نماز پڑھتے ہیں تو مسجد کے کچھ آداب ہیں جسے ہر مسجد میں آنے والے کو یا د رکھنا چاہیئے۔نماز با جماعت جب کھڑی ہوتی ہے تو آداب میں سے ایک بنیادی چیز صفوں کو سیدھا رکھنا ہے اور اس کو آنحضرت ﷺ نے بڑی اہمیت دی ہے کیونکہ اس سے ایک وحدت کی شکل پیدا ہوتی ہے۔حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نمازوں کی صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے صفیں سیدھی بناؤ اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف بھر جائے گا۔میرے قریب زیادہ علم والے سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو رتبے میں ان سے قریب ہوں۔پھر وہ لوگ جو