خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد پنجم مومن کی نشانی ہوتی ہے۔148 خطبہ جمعہ 13 اپریل 2007 ء یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان میں بڑھنے والوں اور اللہ تعالیٰ پر تو کل کرنے والوں کی دو بڑی واضح نشانیاں ہیں۔ایک تو نماز قائم کرتے ہیں ، دوسرے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔گویا یہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو مومن کے ایمان اور توکل علی اللہ کو بڑھاتی ہیں۔نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔قرآن کریم کی ابتدا میں سورۃ بقرہ (آیت : 4 ) کے شروع میں ہر متقی کی یہ نشانی بتائی ہے کہ نماز قائم کرتا ہے اور اس مال میں سے جو خدا نے اسے دیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اس طرح جیسا کہ میں نے کہا بے شمار جگہ نمازوں اور مالی قربانی کو یکجا کیا گیا ہے تا کہ ایک مومن روح اور نفس کی پاکیزگی کے سامان پیدا کرے۔ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَّاتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَلٌ (ابراهيم :32) تو میرے ان بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کو قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی خرچ کریں ، پیشتر اس کے کہ وہ دن آ جائے جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔پس جو جز اسرا کے دن پر یقین رکھتے ہیں، جن کو اس بات کا مکمل فہم وادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے وہ یاد رکھیں کہ نمازیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں کی گئی قربانیاں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک انسان کی بچت کے سامان کرنے والی ہوں گی۔اس کے علاوہ نہ کوئی تجارت کام آئے گی، نہ مال کا زیادہ ہونا کام آئے گا۔نہ خدا تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ کتنا بینک بیلنس چھوڑا ہے۔نہ یہ پوچھے گا کہ تمہارے دوست کون کون سے بڑے لوگ تھے۔نہ یہ دنیاوی دوستیاں کسی قسم کے بچت کے سامان کر سکتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر حقیقی مومن ہو تو ان دو چیزوں کی طرف بہت توجہ دو۔یہ نمازیں اور قربانیاں ظاہراً بھی ہوں اور چھپ کر بھی ہوں۔چھپ کر کی گئی عبادتیں اور قربانیاں ایمان میں مزید مضبوطی کا باعث بنیں گی اور پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والی ہوں گی اور ظا ہرا کی گئی قربانیاں ، نہ اس لئے کہ بڑائی ظاہر ہو بلکہ اس لئے کہ دوسروں کو بھی تحریک ہو، یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ نیک نیتی سے کی گئی ہوتی ہیں۔پس ہر احمدی کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اپنے آپ کو مومنین کی جماعت میں شامل سمجھتا ہے ان دو امور کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دینی چاہئے۔پہلی چیز نماز کا اہتمام، با قاعدگی سے ادائیگی ہے۔حتی الوسع با جماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ان نمازوں کو نوافل کے ساتھ سجایا بھی جائے۔آنحضرت علم سے ایک روایت ہے آپ نے فرمایا کہ بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيْمَانِ تَرُكُ الصَّلَوةِ۔(ترمذی کتاب الايمان باب ما جاء في ترك الصلوة حديث : 2618