خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 146
خطبات مسرور جلد پنجم 146 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء تو یہ کشف کہ اللہ تعالیٰ نے جب دستخط کئے تو پین کو چھڑ کا ، جو سیا ہی چھٹر کی تو وہ ظاہری طور پر بھی سامنے نظر آ گئی۔حضور کے کپڑوں پر پڑی۔دیوار پر پڑی اور ان کی ٹوپی پر پڑی۔حضرت مولوی عبد اللہ سنوری صاحب بھی اس کا ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح ہوا اور کہتے ہیں میں اس وقت پاؤں دبا رہا تھا میں نے محسوس کیا کہ پاؤں پر بھی ایک قطرہ پڑا ہوا ہے تو اس وقت کہتے ہیں کہ 27 رمضان تھی۔رمضان کا مہینہ تھا۔آخری عشرہ تھا۔جمعہ کا دن تھا۔یہ میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے پاؤں میں دبارہا ہوں۔مبارک ہستی ہے ، مبارک مہینہ ہے ، مبارک دن ہے تو اللہ تعالیٰ کوئی نشان دکھائے تو اتنے میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بدن میں لرزہ طاری ہوا ہے پھر آنکھوں سے آنسو بھی نکل رہے تھے اور اس وقت میں نے محسوس کیا کہ کوئی چیز آگری ہے جیسے چھینٹے پڑے ہیں۔جہاں پاؤں دبا رہا تھا اس کے قریب ایک چھینٹا پڑا تھا، میں نے انگلی لگائی کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو شاید اس میں خوشبو بھی ہو لیکن اس میں بہر حال خوشبو کوئی نہیں تھی لیکن وہ سیاہی پھیل گئی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اٹھے اور مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں بیٹھ کے میں نے کہا کہ یہ قمیص جس پر چھینٹے پڑے ہیں مجھے دے دیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں مانے لیکن بڑے وعدہ کے بعد اس بات پہ مانے کہ یہ قمیص میں تمہیں دیتا ہوں جس پر چھینٹے پڑے ہیں اور حضرت مسیح موعود نے فرمایا دیکھو تمہارے اوپر تو نہیں چھینٹے پڑے تو اور کہیں نہیں تھے۔ان کی سفید ٹوپی پر ایک چھینٹ یا دو چھینٹے پڑے ہوئے تھے۔تو بہر حال اس شرط پر حضرت مسیح موعود نے اپنی قمیص دی کہ کہیں بدعت نہ بن جائے، شرک کا موجب نہ بن جائے اس لئے یہ تمہارے ساتھ ہی دفن ہو جائے گی۔ورثاء میں نہیں جائے گی۔تو یہ نشان تھا۔حضرت عبداللہ سنوری یہ ساری باتیں لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ ہے سچی عینی شہادت۔اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكَاذِہین کی وعید کافی ہے۔میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے سراسر سچ ہے۔اگر جھوٹ ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت لعنت لعنت۔مجھ پر خدا کا غضب غضب غضب“۔(ماخوذ از تذکره صفحه 100-102 حاشیه ایڈیشن چهارم مطبوعه ربوه تو یہ آپ کے اس واقعے کی کچی گواہی یہ تھی کہ دوسرے جو ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کو بھی اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہر روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا فرما رہا ہے اور ہم ان کو دیکھ رہے ہیں ، آئندہ بھی ہمیں دکھاتا رہے۔اور وہ وعدے بھی جو ابھی تک پورے نہیں ہوئے یا وہ نشان ، یا جو ابھی تک پورے نہیں ہوئے یا ہونے ہیں ان کو بھی ہمیں اپنی زندگی میں دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم بھی اس مالک کے آگے ہمیشہ جھکے رہنے والے ہوں۔آمین ( مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 27 اپریل تا 3 مئی 2007ء ص 5 تا 8 )