خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 142

142 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ایک حدیث جس میں اللہ تعالیٰ نے بعض احکام کا بتایا ہے اور اپنے خزانوں کا ذکر کیا ہے، اس کا ذکر اس طرح ہے۔حدیث قدسی ہے۔: ” حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم علیہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کیا ہوا ہے اور اسے تمہارے درمیان حرام قرار دیا ہے پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔اے میرے بندو! تم میں سے ہر کوئی گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں۔پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو۔میں تمہیں ہدایت دوں گا۔پھر فرمایا اے میرے بندو ! تم میں سے ہر کوئی بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔“ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ دینے والا ہے۔انسان ایک عاجز چیز ہے اس کو کسی بات پر فخر نہیں کرنا چاہئے۔بڑے بڑے صنعتکار اور زمیندار بھی منٹوں میں دیوالیہ بن جاتے ہیں، تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔فرمایا میں ہوں جو تمہیں کھلاتا ہوں، پھر فرمایا اے میرے بندو! تم میں سے ہر کوئی نگا ہے سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔پھر فرمایا اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں تمام قسم کے گناہ بخشتا ہوں۔پس تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔پھر دعاؤں کی طرف توجہ دلائی، پھر فرمایا اے میرے بندو! اگر تم مجھے نقصان پہنچانا چا ہو بھی تو نقصان نہیں پہنچاسکتےاور تم مجھے نفع پہنچانا بھی چاہو تو مجھے نفع نہیں پہنچا سکتے۔اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بالا ہے۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے جن وانس ایسے ہو جا ئیں جیسے تمہارا سب سے زیادہ پر ہیز گار شخص تو پھر بھی یہ بات میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ کر سکے گی۔اگر سب نیک ہو جائیں تو نیکیاں میرے لئے نہیں ہیں۔وہ نیکیاں تمہیں فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں۔پھر فرمایا اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے جن وانس، سب کے سب ایسے ہو جائیں جیسا تمہارا سب سے زیادہ بد کار شخص تو بھی یہ بات میری سلطنت میں سے کچھ کم نہ کر سکے گی۔اگر بدیاں پھیل جاتی ہیں، میرے احکامات پر عمل نہیں کرتے ، ان راستوں پر نہیں چلتے جن پر چلنے کا میں نے حکم دیا ہے تو اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔فرق پڑے گا تو تمہیں پڑے گا۔پھر فرمایا اے میرے بندو! تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے جن وانس سب ایک میدان میں کھڑے ہو جا ئیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو جتنا مانگے دے دوں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی ایک سوئی کے سمندر میں ڈالنے سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاس لامحدود خزانے ہیں۔پس فرمایا ! اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے گن رکھوں گا۔پھر تمہیں ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔پس جو کوئی بہتر بدلہ پاوے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جو اس کے برخلاف پائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرئے“۔(مسلم کتاب البر والصلة والآداب۔باب تحريم الظلم حديث : 6467) | نیکیاں کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا۔نہیں کرو گے تو سزا ملے گی پھر اس پر اپنے آپ کو ملامت کرو۔پس جیسا کہ پہلی حدیثوں میں ذکر ہو چکا ہے، کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشتا ہے لیکن پھر بھی سزا پانے والوں کے متعلق فرمایا کہ اپنے آپ کو ملامت کرو کہ اس غفور رحیم کے، ایسے مالک کے ہوتے ہوئے بھی اس کے دربار سے فیض نہیں پایا۔