خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد پنجم 4 خطبہ جمعہ 05 / جنوری 2007ء بھی ساری گنوادی ہیں۔تو ظاہر ہے کہ جب آپ نیکی کی تلقین کریں گے نیکی کی تعلیم پھیلا ئیں گے تو سب سے پہلے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے نیکیوں کو قائم کرنا ہوگا۔اپنے اندر، اپنے بچوں کے اندران نیکیوں کو رائج کرنا ہو گا جو اسلام نے ہمیں بتائی ہیں۔اس میں سب سے بڑھ کر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہیں۔جب حقیقی معنوں میں عبادت کے معیار بلند ہوں گے تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی اور ذاتی رشتہ داریاں یا تعلق داریاں اس بات کی طرف نہیں لے جائیں گی کہ نیکی کے معیار ہر ایک کے لئے الگ بن جائیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نیکیوں کو رائج کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں گے۔اور یہ باتیں، نیکیاں قائم کرنا اور بدی سے روکنا، ہم اس لئے کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ پر ہمارا ایمان کامل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے ہمیں اللہ تعالیٰ کے وجود کا صحیح فہم و ادراک حاصل ہوا ہے۔پس جب ہم اپنے اندر یہ پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے نیکیوں کو پھیلانے والے اور بدیوں سے روکنے والے بن جائیں گے تو غیر کو بھی ہماری طرف توجہ پیدا ہوگی کہ یہ لوگ نیکیاں اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور اللہ کی خاطر یہ تمام کام سرانجام دے رہے ہیں۔ہر احمدی اپنے ماحول میں جہاں وہ کام کر رہا ہے یا رہائش رکھتا ہے، کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتا ہے۔تو جب آپ کے چہروں سے آپ کی حرکات و سکنات سے یہ ظاہر ہورہا ہوگا کہ آپ کو بدی سے سخت نفرت ہے اور برائی کی محفلوں سے سلام کر کے اٹھ جانے والوں میں شامل ہیں تو ان کو توجہ پیدا ہوگی کہ پتہ کریں کہ یہ کون لوگ ہیں۔اور اس طرح آپ میں سے ہر ایک کی شخصیت سے یہ اظہار ہورہا ہوگا کہ یہ نیکیوں کو پھیلانے والے اور بدی سے روکنے والے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔اور جب لوگ قریب ہو کر دیکھیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ سعید فطرت لوگوں کے سینے یقیناً کھولے گا۔ہر قوم میں سعید فطرت ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔پس تبلیغ کے لئے اپنے نمونے بھی دکھانے ہوں گے۔صرف اس ماحول میں ہی نہ رچ بس جائیں۔اس کی خوبیاں بے شک اختیار کریں لیکن ان کی برائیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کریں۔آپ لوگوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم خیر امت ہیں، ہمارے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے، ہم اس مقصد کو جاننے والے ہیں جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور یوں عبادت کرنے والوں کے پھل بھی پھر عبادت کی طرف توجہ دینے والے اور تقویٰ پر قائم رہنے کی صورت میں ملیں گے۔ورنہ یاد رکھیں کہ عارضی تبدیلیاں یا دوہرے معیار یا ایمانی حالتوں میں بڑھنے میں کمی ایسے لوگوں کو اگر پھل ملیں گے بھی ، وہ بیعتیں کروائیں گے بھی تو یا تو وہ عارضی ہوں گی، کچھ دیر کے لئے آئے اور پھر چلے گئے، یا اس معیار کی نہیں ہوں گی جو ایک احمدی کا ہونا چاہئے۔یہ باتیں سن کر صرف تعداد کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔بعض جگہ عادت ہوتی ہے صرف بیعتیں کروانے لگ جاتے ہیں۔یہ دیکھیں اور یہ دیکھنا چاہئے کہ تقویٰ کے معیار بڑھانے والے احمدی حاصل ہوں۔پس یاد رکھیں چاہے آپ جو موجودہ احمدی ہیں ان کی نسلوں میں ترقی ہے یا نئے آنے والے احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہے، اگر وہ نیکیوں کے معیار بلند کرنے ، تقویٰ پر چلنے اور عبادت کی طرف توجہ دینے والے نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد کو پورا کرنے والے نہیں ہیں اور ایسے لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں۔پس آپ لوگ جو یہاں کے احمدی ہیں ، پرانے احمدی ہیں یا نئے احمدی ہیں مل کر ایسے پروگرام بنا ئیں جس سے آپ کی نسل کی