خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 5
5 خطبہ جمعہ 05 جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم تربیت بھی ہو رہی ہو۔بہت سارے لوگ پریشانی میں لکھتے ہیں تو نسلوں کی تربیت کے لئے خود بھی تو کچھ کوشش کرنی پڑے گی۔تا کہ ہر احمدی بچہ اس تربیت کی وجہ سے خیر امت کی منہ بولتی تصویر بن جائے۔تبلیغ کے میدان میں نیکیاں پھیلاتے اور برائیوں سے روکتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچا کر اس طرح ان لوگوں کو اپنے اندر سموئیں کہ وہ بھی خیر امت کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔یاد رکھیں کہ دوسروں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کا بہت بڑا ذریعہ مسجدیں بھی ہیں اس طرف بھی میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس وقت تک ہالینڈ میں مسجد کی شکل میں جماعت احمدیہ کی صرف ایک مسجد ہے جو ہیگ (Hague) میں ہے اور اس کی تعمیر ہوئے بھی شاید اندازاً 50 سال سے زائد عرصہ ہی ہو گیا ہے۔اُس وقت بھی اس مسجد کا خرچ لجنہ نے دیا تھا جن میں اکثریت پاکستان کی لجنہ کی تھی۔پھر یہ ن سپیٹ کا سینٹر خریدا گیا جہاں اس وقت جمعہ ادا کر رہے ہیں یہ بھی مرکز نے خرید کر دیا ہے۔ہالینڈ کی جماعت نے تو ابھی تک ایک بھی مسجد نہیں بنائی۔اب آپ کی تعداد یہاں اتنی ہے کہ اگر ارادہ کریں اور قربانی کا مادہ پیدا ہو تو ایک ایک کر کے اب مسجدیں بنا سکتے ہیں۔جب کام شروع کریں گے تو اللہ تعالی مدد بھی فرمائے گا انشاء اللہ۔خیر امت ہونے کی ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان ہوتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی ہے تو پھر اس پر تو کل بھی کریں۔اور یہ کام شروع کریں تو اللہ تعالیٰ انشاء اللہ مددبھی فرمائے گا جیسا کہ میں نے کہا۔کل میں امیر صاحب سے اور مربی صاحبان سے مبلغین سے میٹنگ میں کہہ رہا تھا کہ مسجد شروع کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ بن بھی جائے گی۔اگر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے رہیں گے کہ پیسے کہاں سے آئیں گے، پیسے اکٹھے ہوں تو مسجد بنے تو پھر نہیں بنا کرتی۔ارادہ کریں اللہ تعالیٰ مدد کرے گا انشاء اللہ۔احمدی جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پھر وہ پورا بھی کرتا ہے ، جوش بھی پیدا ہو جاتا ہے، اس لئے فکر نہ کریں، اپنے آپ کو انڈراسٹیمیٹ (Undere stimate) نہ کریں۔اپنے لئے غلط اندازے نہ لگا ئیں۔اور (ایسا کر کے آپ ) اپنے لئے غلط اندازے نہیں لگا رہے ہوتے ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے غلط اندازے لگا رہے ہوتے ہیں۔اگر ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھیں۔اگر یہ ٹارگٹ رکھیں کہ ہر دو سال میں کم از کم ایک شہر میں جہاں جماعت کی تعداد اچھی ہے مسجد بنانی ہے ( یہاں دو تین تو شہر ہیں) تو پھر اس کے بعد مزید جماعت پھیلے گی انشاء اللہ۔جس طرح میں نے کہا تبلیغ بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ مسجدیں بناتے چلے جائیں تو یہ چھوٹا سا ملک ہے اس میں جب مسجدیں بنائیں گے، ان کے مناروں سے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آواز گونجے گی اور آپ لوگوں کے عمل اور عبادتوں کے معیار بڑھیں گے تو یقینا ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی اور آپ لوگ ان کی غلط فہمیاں دور کرنے والے بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن رہے ہوں گے۔ان لوگوں کو بھی حقیقت کا علم ہوگا۔ان کو بھی پتہ چلے گا کہ ہم اسلام کو جو سمجھتے ہیں یا سمجھتے رہے ہیں حقیقت میں یہ وہ نہیں ہے بلکہ یہ تو حسن پھیلانے والا اور امن پھیلانے والے لوگوں کا مذہب ہے۔پس تبلیغ کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعمیر کی طرف بھی توجہ دیں۔دنیا میں ہر جگہ اس طرف توجہ پیدا ہو چکی ہے اس لئے ہالینڈ کی جماعت کو بھی اب پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور تعمیر کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اس چیلنج کو اب قبول کریں تو جیسا کہ میں نے