خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد پنجم 137 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء جوابدہ بناتے ہیں اور ہر عہد یدار اپنے دائرے میں جہاں نگران ہے وہ ضرور پوچھا جائے گا۔یادرکھیں کہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں آپ اس لحاظ سے بھی ذمہ دار ہیں، اس لئے کبھی یہ نہ سوچیں کہ کسی معاملے میں خلیفہ وقت کو اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ٹھیک ہے، رکھ سکتے ہیں آپ لیکن خدا تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے، اس کو اندھیرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔پس ہر عہدیدار کی دوہری ذمہ داری ہے، اس کو ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا دعا ہی ہے جو سیدھے راستے پر چلانے والی ہے اور چلا سکتی ہے کہ اپنے ذمہ داری کو دعاؤں کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں۔جہاں تک میری ذات کا سوال ہے۔میں جہاں اپنے لئے دعا کرتا ہوں ، عہدیداروں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ انصاف پر قائم رکھتے ہوئے سیدھے راستے پر چلائے۔کبھی ان سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جس کا اثر پھر آخر کار یا نتیجتاً مجھ پر بھی پڑے۔یہاں جماعت کو بھی یہ توجہ دلا دوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ذمہ داری کا صحیح حق ادا نہیں کر رہے ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ خادم مالک کے مال کا نگران ہے ، اگر آپ اس ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اُسے ادا نہیں کر رہے جو خلیفہ وقت نے آپ کے سپرد کی ہے۔اس کی صحیح ادائیگی نہ کر کے آپ بھی اس مال کی نگرانی نہ کرنے کے مرتکب ہورہے ہوں گے۔جب خلیفہ وقت نے آپ سے مشورہ مانگا ہے تو اگر آپ صحیح مشورہ نہیں دیتے تو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو منتخب نہیں کرتے جو اس کام کے اہل ہیں جس کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے، اگر ذاتی تعلق، رشتہ داریاں اور برادریاں آڑے آرہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نافرمانی کر رہے ہیں کہ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء: 59) یعنی تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپردکر و جو ہمیشہ عدل پر قائم رہنے والے ہوں۔اور اس اصول پر چلنے والے ہوں کہ جب بھی فیصلہ کرنا ہے تو اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: 59) کہ انصاف سے فیصلہ کرو۔جو ذمہ داریاں سپرد کی گئی ہیں ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرو۔اگر نہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہاں داؤ چل گیا تو آگے بھی اسی طرح چل جائے گا۔اللہ کا رسول کہتا ہے کہ جزا سزا کے دن تم پوچھے جاؤ گے۔پس جماعت کا بھی کام ہے کہ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں اور ذاتی رشتوں اور تعلقات اور برادریوں کے چکر میں نہ پڑیں۔اور اسی طرح خلیفہ وقت کی نمائندگی میں عہد یداروں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان افراد جماعت کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے ( جیسا کہ میں نے پہلے کہا ) جن پر اعتماد کرتے ہوئے بہترین عہدیدار منتخب کرنے کا کام سپرد کیا گیا ہے اور مالک کے مال کی نگرانی یہی ہے جو ہر فر د جماعت نے ، جس کو رائے دینے کا حق دیا گیا ہے کرنی ہے۔یہ سال جماعتی انتخابات کا سال ہے۔بعض جگہوں سے بعض شکایات آتی ہیں، ہر جگہ سے تو نہیں، اس لئے میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسی جگہیں جہاں بھی ہیں، جو بھی ہیں اور جہاں یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے ان کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر کام دعا سے کریں اور دعائیں کرتے ہوئے اپنے عہد یدار منتخب