خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 128

128 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم حضرت داؤد کے دل پر اس درویش کے بیان سے بلحاظ اس کی نیکی اور پارسائی اور عاجزانہ حالت کے خاص اثر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ اچھا اس وقت جاؤ اور فلاں تاریخ کو دونوں مدعی جس نے درخواست دی تھی اور مد عاعلیہ جو دوسرا تھا، جس پر الزام لگایا گیا تھا دونوں حاضر ہو جاؤ تا فیصلہ سنا دیا جائے۔جب مدعی اور ملزم دونوں عدالت سے رخصت کئے گئے تو حضرت داؤد نے اللہ تعالیٰ کے حضور بہت دعا کی کہ اے میرے خدا میری عدالت سے کسی کیس کے متعلق ناروا فیصلہ ہونا جو تیرے نزدیک اپنے اندر ظلم کا شائبہ رکھتا ہو میں قطعا پسند نہیں کرتا۔تو اس مقدمہ میں میری راہنمائی فرما اور اصل حقیقت جو بھی ہے مجھ پر منکشف فرما، کھول دے۔جب حضرت داؤد نے نہایت تضرع سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ جو کچھ درویش نے بیان کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور ذکر کی حالت میں اس درویش کے دل میں یہ خواہش ہم نے ہی ڈالی اور گائے کا بچھڑا بھی ہمارے ہی تصرف کے ماتحت درویش کے حجرہ میں لایا گیا اور پھر اس کا ذبح کیا جانا بھی ہمارے ہی منشاء کے مطابق ہوا۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سب کارروائی ہمارے ہی خاص ارادے کے تحت وقوع میں آئی اور اصل حقیقت یہ ہے کہ اس درویش کا والد جو بہت بڑا تاجر تھا اور مدت تک باہر تجارت کرنے کے بعد لاکھوں روپے کی مالیت حاصل کی اور کئی ریوڑ بھیٹروں اور بکریوں کے اور کئی گلے گائیوں اور اونٹوں کے اس کی ملکیت میں تھے۔وہ واپس وطن کو آرہا تھا اور یہ جو مدعی ہے جو یہ کہتا تھا کہ میری گائے کیوں ذبح کر لی۔یہ نمک حرام اس درویش کے باپ کا نوکر تھا۔جب وہ تاجر اپنے شہر کے قریب ایک میدان میں اترا اور رات کو سویا تو اس شخص نے جو اس کا نوکر تھا نمک حرامی کی اور چھری سے اس کے اوپر حملہ کر کے ، اس چھری سے جس پر اس شخص کا نام بھی لکھا ہوا تھا ، اس کا نام کندہ تھا اس تاجر کوقتل کر دیا اور اس میدان کے گوشے میں معمولی سا گڑھا کھود کر اس میں گھسیٹ کر ڈال دیا۔اس میدان میں اس پر مٹی ڈال کر اس کو دفن کر دیا۔چنانچہ حضرت داؤد کو خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں وہ میدان اور وہ گڑھا سب کچھ دکھا دیا اور وہ چھری بھی جس سے تاجر قتل کیا گیا تھا اور خون آلود کپڑے بھی جو اس کے ساتھ دفن کئے گئے تھے۔یہ ساری چیزیں ان کو دکھا دی گئیں اور بتایا کہ ہم نے یہ سب کا رروائی اس لئے کروائی کہ اس قاتل کے پاس جس قدر مال مویشی اور روپیہ ہے وہ سب درویش کو جو مقتول تاجر کا بیٹا ہے اور اصل وارث ہے دلایا جائے اور مدعی کو جو درویش کے باپ کا قاتل ہے قصاص کے طور پر قتل کی سزا دلائی جائے۔جب حاضری کے لئے مقررہ دن کو یہ دونوں حاضر ہوئے تو حضرت داؤد نے اس مدعی کو کہا کہ تم اس درویش کو معاف کر دو تمہارے لئے اچھا ہو گا۔اس مدعی نے عدالت کے کمرے میں شور ڈال دیا کہ دیکھو جی کیا عدالت ہے؟ کیا عدالت یوں ہوتی ہے مجرموں کو بجائے سزا کے مدعی سے معافی دلائی جارہی ہے۔ایسا عدل نہ کبھی سنا اور نہ دیکھا۔حضرت داؤڑ کے بار بار سمجھانے پر بھی جب مدعی نے عدل عدل کی رٹ لگائی تو آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا اب ہم عدل ہی کریں گے اور سپاہی کو حکم دیا کہ اس مدعی کو ہتھکڑی لگالی جائے اور فلاں میدان کی طرف کوچ کیا