خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 127
127 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کے مقابلے پر دوسرے خدا بنا بیٹھے ہیں اور یہ عقل انہیں آجائے کہ وہ ایک خدا ہے جو دائمی قدرت کا مالک ہے۔زمین و آسمان میں اس کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔اس کے علاوہ جسے بھی تم اپنا دوست اور مددگار بناتے ہو تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔پس اس قادر ومقتدر خدا کے آگے جھکو اور اس کے احسان سے جزا سزا کے دن فیض پاؤ۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے اپنی کتاب ”حیات قدسی میں جو انہوں نے لکھی ہوئی ہے، حضرت میر ناصر نواب صاحب کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان فرمودہ ایک حکایت درج کی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ یہاں اس دنیا میں بھی جزا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔لکھتے ہیں کہ حضرت داؤد کے زمانے کی بات ہے کہ ایک درویش حجرہ نشین، جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہتا تھا اور خلوت نشینی اس کا محبوب شغل تھا علیحدہ کمرے میں بند رہتا تھا۔ایک دن جب وہ ذکر الہی میں مشغول تھا۔اس کے۔۔۔۔دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اگر تم البقر ملے تو میں کھاؤں۔( یعنی گائے کا گوشت کھانے کی اس کو خواہش پیدا ہوئی ) چنانچہ یہ خواہش جب شدت کے ساتھ اسے محسوس ہوئی تو ایک قریب البلوغ، ایسا گائے کا بچھڑا جو قریباً جوانی کی عمر کو پہنچنے والا تھا اس کے حجرہ کے اندر خود بخود آ گیا اور اس کے گھنے کے ساتھ ہی اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ گائے کا بچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری خواہش پر اس حجرہ میں آیا ہے۔اس لئے اس نے اسے ذبح کیا تا کہ اس کا گوشت کھا کر اپنی خواہش پوری کرے۔جب ابھی ذبح کیا ہی تھا کہ اوپر سے ایک شخص آ گیا اور یہ دیکھ کر کہ اس درویش نے بچھڑ ا ذبح کیا ہے غضبناک ہوکر بولا کہ یہ میرا جانور ہے ، تم نے اسے ذبح کیوں کیا۔تو اس جانور کو یہاں چوری کر کے لے آیا پھر ذبح کر لیا یہ مجرمانہ فعل ہے۔میں اس پر عدالت میں استغاثہ دائر کروں گا۔چنانچہ اس شخص نے بحیثیت مدعی حضرت داؤد کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔عدالت نے مجرم کو طلب کیا اور حضرت داؤ د ه ا نے اس درویش سے پوچھا کہ یہ شخص جو بحیثیت مدعی تجھ پر الزام لگاتا ہے کہ تو نے ایسا ایسا فعل کیا ہے اس الزام کا تمہارے پاس کیا جواب ہے۔اس کے متعلق اس درویش نے بیان کیا کہ میرے والد جب کہ میں چھوٹا ہی تھا تجارت کے لئے کسی ملک میں گئے۔اس کے بعد میں جوان ہوا اور اسے عرصہ دراز گزر گیا۔میں نے کچھ تعلیم حاصل کر کے بعض اہل اللہ سے تعلق پیدا کیا اور گوشہ نشینی کو اختیار کر لیا۔اسی اثناء میں جبکہ میں ذکر الہی میں مصروف تھا میرے دل میں گائے کا گوشت کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔اس خواہش کی حالت میں یہ گائے کا بچھڑا میرے حجرہ میں آگیا۔میں نے یہی سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری خواہش کو پورا کرنے کے لئے یہ گائے کا بچھڑا میرے حجرہ میں بھیج دیا ہے۔اس لئے میں نے اسے ذبح کر لیا۔یہ شخص اوپر سے آ گیا اور غضبناک ہو کر بولا کہ تو نے میرا جانور چرایا ہے اور پھر ذبح بھی کر لیا ہے اور میں عدالت میں مقدمہ دائر کروں گا۔۔چنانچہ اسی بناء پر یہ مجھے ملزم قرار دیتا ہے۔میں تو سمجھا تھا اللہ تعالیٰ نے میری خواہش کے مطابق بھیجا ہے۔اب جو فیصلہ عدالت کے نزدیک مناسب ہو وہ فیصلہ کر دے۔