خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 122

122 خطبات مسر در جلد پنجم خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء پر لبیک کہو جس کی تعلیم اور اس کے رسول ﷺ سے عشق کی چند باتیں یا مثالیں میں نے پیش کی ہیں اگر اس مسیح و مہدی کے کلام میں ڈوب کر دیکھو تو خدائے واحد ویگانہ سے تعلق اور پیار اور حضرت محمد مصطفی ﷺ سے عشق اور آپ کیلئے غیرت کے جذبات کے علاوہ اس میں اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔صاف دل ہو کر اگر دیکھو گے تو جماعت احمدیہ کی 100 سال سے زائد کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جماعت کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتا رہا ہے۔آج اس سیٹیلائٹ کے ذریعہ سے آپ تک وسیع پیمانے پر یہ پیغام پہنچنا بھی اس تائید و نصرت کی ایک کڑی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آج یہ انتظام فرما دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کو ماننے والی ایک چھوٹی سی غریب جماعت، پیسہ پیسہ جوڑ کر ، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس زمانے کے امام کا پیغام تمہیں سیٹلائٹ کے ذریعہ سے پہنچانے کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔پس بدظنی سے بچتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اس جری اللہ کی تائید و نصرت کیلئے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور مخالفت پر کمر بستہ ہونے کی بجائے اس مسیح و مہدی کی آواز پر کان دھرو جسے خدا تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے اپنے وعدے کے مطابق جو اس نے آنحضرت ﷺ سے کیا تھا مبعوث فرمایا ہے۔پس آؤ اور اس مسیح و مہدی کے منکرین میں شامل ہونے کی بجائے اس کے دست راست بن جاؤ کہ آج اُمت مسلمہ بلکہ تمام دنیا کی نجات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اس عاشق صادق کا ہاتھ بٹانے میں ہی ہے۔اے عرب کے رہنے والو! دلوں میں خوف خدا پیدا کرتے ہوئے ، خدا کیلئے اس درد بھری آواز پر کان دھر و اور اس درد کو محسوس کرو جس کے ساتھ یہ صیح و مہدی تمہیں پکار رہا ہے۔آؤ اور اس کے سلطان نصیر بن جاؤ۔یا درکھو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اُسے دنیا پر غالب کرے گا۔تم نہیں تو تمہاری نسلیں اس برکت سے فیض پائیں گی اور پھر وہ یقینا اس بات پر تأسف اور افسوس کریں گی کہ کاش ہمارے بزرگ بھی آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو سمجھتے ہوئے اس عاشق رسول اللہ ﷺ اور مسیح و مہدی کے معین و مددگار بن جاتے اور اس کی جماعت میں شامل ہو جاتے۔اللہ کرے کہ تم لوگ آج اس حقیقت کو سمجھ لو۔اللہ تعالیٰ ہماری یہ عاجزانہ دعائیں قبول فرمائے۔( مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 13 تا 19 اپریل 2007 ء ص 5 تا 8 )