خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 98
98 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کلیہ بچ جائے۔جبکہ مالک وہ ہے جس سے بندہ اپنا لباس ، کھانا ، رحمت اور تربیت و پرورش ہر چیز کا طالب ہوتا ہے۔بس مَالِكِ يَوْمِ الدّین میں مالک کا لفظ رکھ کر گویا اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اے میرے بندو! میں تمہارا مالک ہوں تمہارا کھانا پینا ، لباس ، جزا ، ثواب اور جنت سب میرے ذمہ ہے۔پھر دوسری بات وہ کہتے ہیں کہ اگر چہ ایک ملک ، بادشاہ ایک مالک کی نسبت زیادہ مال و دولت رکھنے والا ہوتا ہے۔کیونکہ مالک مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔تھوڑی چیز کا بھی جو مالک ہے وہ اس کا مالک کہلائے گا اور بادشاہ کے اختیارات زیادہ ہیں تو اس لحاظ سے وہ کہتے ہیں کہ پھر بھی ملک کی امید تجھ سے ہوتی ہے کہ وہ تجھ سے کچھ حاصل کرے جبکہ مالک وہ ہے کہ تو اس سے امید رکھتا ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سے نیکیاں اور اطاعتیں بجالانے کا طلبگار نہ ہوگا بلکہ یہ چاہے گا کہ ہم اس سے طلب گار ہوں کہ وہ محض اپنے فضل سے ہم سے عفو اور درگز راور مغفرت کا سلوک کرے اور ہمیں اپنی جنت عطا فرمائے۔اس لئے امام کسائی کہتے ہیں کہ میں مَلِكِ يَوْمِ الدِّین کی بجائے مَالِكِ يَوْمِ الدِّين ہی پڑھتا ہوں کیونکہ یہ قراءت اللہ تعالیٰ کے کثیر فضل اور وسیع رحمت پر دلالت کرتی ہے۔تیسرا فرق ان کے نزدیک ملک اور مالک میں یہ ہے کہ جب بادشاہ کے سامنے سپاہی پیش کئے جاتے ہیں تو وہ ان میں بیماروں ، کمزوروں کو رڈ کر دیتا ہے اور صرف قوی بدن اور تندرست افراد کو ہی قبول کرتا ہے اور کمزوروں، بیماروں کو کچھ بھی نہیں دیتا جبکہ مالک وہ ہے کہ اگر اس کا غلام بیمار پڑ جائے تو اس کا علاج معالجہ کراتا ہے، اگر غلام کمزور ہو تو مالک خود اس کی مدد کرتا ہے، اگر غلام کسی مصیبت میں پڑ جائے تو مالک اسے خلاصی دلاتا ہے، پس ملک کی بجائے مالک کی قراءت گناہگاروں اور بے سہاروں کے لئے زیادہ مناسب حال ہے۔چوتھا فرق ملک اور مالک میں یہ ہے کہ ملک بادشاہ میں ہیبت اور ملکی انتظام وانصرام کرنے کی وجہ سے رعب ود بد بہ پایا جاتا ہے۔جبکہ مالک میں رحمت و رافت پائی جاتی ہے اور ہم بندوں کو ہیبت اور دبدبہ کی بجائے رحمت اور رافت کی زیادہ احتیاج ہے۔(التفسير الكبير لامام فخر الدین الرازی جلد اول زیر آيت مالك يوم الدين ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ سوال ہو کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو کیسے اس چیز کا مالک کہہ دیا جس کا ابھی وجود بھی نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ مالِك مراد قدرت رکھنے والا ہے یعنی یوم الدین میں وہی قادر ہوگا یا يَوْمُ الدِّين پر جزا و سزا کے دن پر ، اور اسے برباد کرنے پر کلیۂ قدرت اسی کو ہوگی کیونکہ جو کسی چیز کا مالک ہو وہ اس چیز میں تصرف کرنے کا حقدار بھی ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل تصرف ہے اور اپنی مخلوق کی چیز پر قادر بھی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز