خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 93

خطبات مسرور جلد پنجم 93 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007 ء آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جا بجارحم کی تعلیم دی ہے یہی اخوت اسلامی کا منشاء ہے“۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه 269 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه (11) 66 پھر فرمایا مخلوق خدا سے ایسے پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحه 460 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔حقیقی رشتہ دار کی تعریف بھی فرما دی کہ ماؤں کا رشتہ ہو۔بعض دوسرے رشتوں میں تو بعض دفعہ دراڑیں آجاتی ہیں لیکن ماں بچے کا رشتہ ایسا ہے جو ہمیشہ محبت و پیار اور شفقت کا رشتہ ہوتا ہے۔اس طرح پیش آؤ جس طرح ماں کا رشتہ ہے۔پھر فرمایا ” میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں اور میرے کانوں میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔اگر تم کچھ بھی اس کے لئے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔اپنے تو در کنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔یعنی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ جو اپنوں سے دکھاتے ہو۔(ملفوظات جلد 4 صفحه 82 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اُسوہ حسنہ پر چلتے ہوئے اور آپ کے غلام صادق نے اس زمانے میں جس طرح عمل کر کے ، اس نصیحت پر چلتے ہوئے ہمیں دکھایا اور ہمیں نصیحت فرمائی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے رحم اور ہمدردی کے جذبات ہمارے دل میں ہمیشہ رہیں اور بڑھتے رہیں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے والے ہوں۔آخر میں ایک افسوسناک خبر کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔کل پاکستان میں منڈی بہاؤالدین کے علاقے کے ایک گاؤں سیر تحصیل پھالیہ میں ایک شہادت ہوئی ہے۔محمد اشرف صاحب ایک احمدی نو مبائع تھے۔شاید دو تین سال، چار سال پہلے بیعت کی تھی۔رابطہ تو ان کا دس بارہ سال سے تھا لیکن بیعت کی جب توفیق ملی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی استقامت اور ثبات قدمی دکھائی۔ان کے خلاف اُس گاؤں میں جہاں یہ رہتے تھے بڑی