خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 91
91 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ باہر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کر کے تشریف لائے تو بہت سارے لوگ وہاں جمع تھے اُن لوگوں میں ایک سائل تھا، سوالی جو سوال کیا کرتا تھا۔اس نے سوال کیا ، آواز لگائی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لوگوں کے رش کی وجہ سے صحیح طرح سے سن نہ سکے۔تو جب اندر گئے تو احساس ہوا کہ سوالی نے ایک سوال کیا تھا تو آپ باہر آئے اور پوچھا تو لوگوں نے کہا وہ تو چلا گیا ہے۔پھر آپ اندر چلے گئے اس وقت کہا کہ اسے تلاش کر دیا پھر تھوڑی دیر کے بعد سوالی پھر آ گیا۔آپ باہر آئے اس کی ضرورت پوری کی اور فرمایا میرا دل بڑا سخت بے چین تھا، ہمیں دعا مانگ رہا تھا کہ وہ دوبارہ آئے اور میں اس کی ضرورت پوری کرسکوں۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه 72-73) پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ایک واقعہ کابل کی آئی ہوئی ایک لڑکی کا بیان کیا۔اس کی آنکھیں سخت دُکھنے آ گئیں اور وہ دوائی نہیں لگواتی تھی۔ایک دن اس کی ماں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تو وہ دوڑ کر آگئی کہ نہیں میں تو حضرت صاحب سے ہی علاج کرواؤں گی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہوئی اور روتی جاتی تھی اور اپنی آنکھوں کی درد اور سرخی کی تکلیف بیان کر رہی تھی۔اور ساتھ ہی یہ درخواست بھی کر رہی تھی کہ آپ میری آنکھوں پر دم کر دیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دیکھا تو واقعی اس کی آنکھیں بڑی سخت تکلیف میں تھیں، دکھ رہی تھیں۔آپ نے اپنا تھوڑا سا لعاب دہن انگلی پر لگا کے اس کی آنکھ پر رکھا اور دعا کی اور فرمایا: بچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف کبھی نہیں ہوگی۔چنانچہ وہ کہتی ہیں وہ تکلیف آئندہ مجھے کبھی نہیں ہوئی۔رض (ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه 83-284 تو ہر وقت ہر ایک کے لئے بچہ ہو، چھوٹا ہو، بوڑھا ہو، آپ میں جذبہ رحم تھا۔جذ بہ رحم کے تحت ہی آپ دعا بھی کرتے تھے ، علاج بھی کرتے تھے اور ان کی تکلیفیں دور کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔پھر حضرت میر محمد الحق صاحب کا بچپن کا واقعہ ہے وہ سخت بیمار ہو گئے تو آپ نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاسنی اور الہام ہو اسلام قَوْلًا مِّن رَّبِّ رَّحِیم یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے۔چنانچہ میر صاحب صحت یاب ہوئے۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه 286 287) جہاں یہ قبولیت دعا کے واقعات ہیں وہاں جس رحم کے جذبے کے تحت آپ دعا مانگا کرتے تھے اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔