خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد پنجم 81 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء بہت سی تاریکی کو مٹایا۔ہاں دنیا کا حقیقی نور وہی تھا جس نے دنیا کو تاریکی میں پا کر فی الواقع وہ روشنی عطا کی کہ اندھیری رات کو دن بنا دیا۔اس کے پہلے دنیا کیا تھی اور پھر اس کے آنے کے بعد کیا ہوئی ؟ یہ ایک سوال نہیں ہے جس کے جواب میں کچھ دقت ہو۔اگر ہم بے ایمانی کی راہ اختیار نہ کریں تو ہمارا کانشنس ضرور اس بات کے منوانے کے لئے ہمارا دامن پکڑے گا کہ اس جناب عالی سے پہلے خدا کی عظمت کو ہر ایک ملک کے لوگ بھول گئے تھے اور اس بچے معبود کی عظمت اوتاروں اور پتھروں اور ستاروں اور درختوں اور حیوانوں اور فانی انسانوں کو دی گئی تھی اور ذلیل مخلوق کو اس ذوالجلال وقدوس کی جگہ پر بٹھایا تھا اور یہ ایک سچا فیصلہ ہے کہ اگر یہ انسان اور حیوان اور درخت اور ستارے درحقیقت خدا ہی تھے جن میں سے ایک یسوع بھی تھا تو پھر اس رسول کی کچھ ضرورت نہ تھی۔لیکن اگر یہ چیزیں خدا نہیں تھیں تو وہ دعوئی ایک عظیم الشان روشنی اپنے ساتھ رکھتا ہے جو حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے پہاڑ پر کیا تھا۔وہ کیا دعوی تھا وہ یہی تھا کہ آپ نے فرمایا کہ خدا نے دنیا کو شرک کی سخت تاریکی میں پا کر اس تاریکی کو مٹانے کے لئے مجھے بھیج دیا۔یہ صرف دعوی نہ تھا بلکہ اس رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعوی کو پورا کر کے دکھلا دیا۔اگر کسی نبی کی فضیلت اس کے ان کاموں سے ثابت ہوسکتی ہے جن سے بنی نوع کی سچی ہمدردی سب نبیوں سے بڑھ کر ظاہر ہو تو اے سب لوگو ! اٹھو اور گواہی دو کہ اس صفت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔اندھے مخلوق پرستوں نے اس 1۔۔۔۔۔۔بزرگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شناخت نہیں کیا جس نے ہزاروں نمونے سچی ہمدردی کے دکھلائے۔لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ یہ پاک رسول شناخت کیا جائے۔چاہو تو میری بات کولکھ رکھو کہ اب کے بعد مردہ پرستی روز بروز کم ہوگی یہاں تک کہ نابود ہو جائے گی۔کیا انسان خدا کا مقابلہ کرے گا؟۔کیا نا چیز قطرہ خدا کے ارادوں کو رد کر دے گا؟۔کیا فانی آدم زاد کے منصوبے الہی حکموں کو ذلیل کر دیں گے؟ اے سنے والو سنو! اور اے سوچنے والو سوچو! اور یاد رکھو کہ حق ظاہر ہوگا اور وہ جو سچا نور ہے چمکے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 8-9 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ پیغام، پیغام تو حید ہے جو آج ہم نے ان سب تک پہنچانا ہے جو عقل اور شرافت رکھتے ہیں۔جن کے لئے ہمیں اب پہلے سے بڑھ کر کمر ہمت کسنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے یہ منصوبے ہیں جو حرکت میں آچکے ہیں اور ہم ہر روز اس کے نظارے دیکھتے ہیں، دیکھ رہے ہیں۔ہماری تو یہ حقیر سی کوشش ہوگی جو ہمیں ثواب کا مستحق بنائے گی۔آخر میں پھر میں ان بڑبولوں تک جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پہنچانا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :۔