خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 67
67 خطبہ جمعہ 16 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حقوق العباد کی طرف بھی توجہ رکھو اور یہ ہر دو قسم کے اعمال تم اس وقت بجالانے والے ہو سکتے ہو جب اللہ تعالیٰ کا خوف تمہارے دل میں ہوگا۔ایک فکر ہوگی کہ میں نے عبادت کی طرف بھی توجہ دینی ہے اور ہر دو حقوق ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے اس کی مدد حاصل کرنی ہے۔کیونکہ اگر اس کی مدد شامل حال نہیں ہوگی تو نیک کاموں اور صالح اعمال کی انجام دہی نہیں ہو سکتی اور جب یہ صورت حال ہوگی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بہت قریب ہوتا ہے، ان پر رحمت سے توجہ فرماتا ہے، ان کو نیکیوں پر قائم رکھتا ہے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچاتا ہے۔اللہ فرماتا ہے وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا۔إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَريبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: (57) اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ اور اسے خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے رہو یقینا اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب رہتی ہے۔تو یہ ہے مومن کی نشانی کہ قومی طور پر بھی اور ذاتی طور پر بھی ایسی کوئی بات نہ کرو جس سے معاشرے میں فساد پھیلنے کا اندیشہ ہو۔اگر ایسے حالات دیکھو جو پریشان کن ہوں اور تمہارے اختیارات سے باہر ہوں تو دعاؤں میں لگ جاؤ۔اور جب ایک مومن اللہ تعالیٰ سے رحم کی امید رکھتے ہوئے اور فتنہ و فساد سے بچتے ہوئے اُس کو پکارے گا بشرطیکہ وہ خود بھی، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ تمام شرائط اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنے کی پوری کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر توجہ کرتے ہوئے ان کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ایسے ذرائع سے اس کی رحمت نازل ہوتی ہے کہ حیرانی ہوتی ہے، ایک انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔محسنین وہ لوگ ہیں جو حقوق العباد ادا کرنے والے ہیں اور حقوق اللہ بھی ادا کرنے والے ہیں اور اس طرف پوری توجہ دینے والے ہیں۔اس فساد کے زمانے میں جس میں سے آج دنیا گزر رہی ہے اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر یہ کس قدر احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ کے اس احسان اور انعام کا کبھی بھی بدلہ نہیں اتارا جا سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان ہے، احسانوں پر احسان کرتا چلا جاتا ہے کہ فساد نہ کرنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والوں کو محسنین میں شمار فرمارہا ہے اور ان کی دعائیں سنے کی تسلی فرمارہا ہے۔پس یہ جو اتنا بڑا اعزاز ہمیں مل رہا ہے، یہ کوئی عام حسنین والا اعزاز نہیں ہے بلکہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور اسی طرح اس کی بجا آوری کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں یا کم از کم خدا تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی حالت میں بھی تمہاری یہ حالت ہونی چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے اسے دیکھ رہے ہو یا کم از کم یہ احساس ہو کہ اللہ تمہیں دیکھے رہا ہے۔پس جب یہ حالت ہوگی تو اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی رحمت کے دروازے ایک مومن پر کھلیں گے۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے راستے میں جہاد کرنے والے، میری خاطر قربانیاں کرنے والے اور