خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد پنجم 66 خطبہ جمعہ 16 فروری 2007ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرع سے دعا کرتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخمریزی کرتا ہے تو رحمت الہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح اگر غور سے دیکھو تو ہمارے ہر یک عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے ، رحمت الہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الہی سنتوں میں داخل ہیں کو ئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی الفور رحمت الہی ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سر سبز کر دیتی ہے۔(منن الرحمن روحانی خزائن جلد 9 صفحه 148 حاشیه پس یہ امتیاز ہے ایک مومن اور غیر مومن میں کہ مومن دین اور دنیا کے انعامات کے لئے اللہ تعالیٰ کو اس کی رحیمیت کا واسطہ دیتے ہوئے اس کے آگے جھکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ قوانین الہی کے مطابق انعاموں کو حاصل کرنے کے لئے اور رحیمیت سے حصہ پانے کے لئے دعا کے ساتھ اُن اسباب اور قومی کو بھی کام میں لا نا ہو گا جوکسی کام کے لئے ضروری ہیں۔پھر نماز، روزہ، زکوۃ صدقہ وغیرہ ہیں۔یہ اُس وقت اللہ کے حضور قبولیت کا درجہ رکھنے والے اور اس کی رحیمیت کے معجزات دکھانے والے ہوں گے جب دوسرے اعمال صالحہ کی بجا آوری کی طرف بھی توجہ ہوگی۔اور یہی ایک مومن کا خاصہ ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والا ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے صدقہ اس کے انعاموں کا طلبگار ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : فیض رحیمیت اسی شخص پر نازل ہوتا ہے جو فیوض مترقبہ کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے۔ایسے فیض اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جن کی اس کو خواہش اور انتظار ہو۔اسی لئے یہ ان لوگوں سے خاص ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے رب کریم کی اطاعت کی۔جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب : 44) میں تصریح کی گئی ہے۔یعنی وہ مومنوں کے حق میں بار بار رحم کرنے والا ہے۔اعجاز امسیح روحانی خزائن جلد 17 صفحه 141-140 اردو تر جمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 3 صفحہ 727 پس ایک تو یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اطاعت شرط ہے، اور اطاعت اس وقت حقیقی اطاعت ہو گی جب یہ مومن ہر قسم کے اعمال صالحہ بجالانے والا ہوگا اور پھر ایمان میں مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایک دفعہ جب تمہیں اللہ نے ایمان لانے کی توفیق عطا فرما دی تو پھر اس ایمان کی حفاظت بھی تم نے کرنی ہے۔اپنی عبادتوں کو بھی زندہ کرو، تمام حقوق اللہ بجالاؤ اور دوسرے نیک اعمال بجالاتے ہوئے