خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 62

62 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم تمام دنیاوی اور دینی نعمتوں کو اپنے سامنے رکھیں۔اور دیکھیں کہ کونسا فضل ہے جو اُس نے ہم پر نہیں کیا۔ہر طرح کے انعامات سے ہمیں نوازا ہے اور پھر ہمیں یہ بھی راستہ دکھا دیا کہ میری بخشش مانگتے رہو کیونکہ ان چیزوں پر یعنی نیکیوں پر قائم رہنے کے لئے اور ان کے معیار بلند کرنے کے لئے استغفار بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعام کی وجہ سے علم و عرفان میں یا نیکیوں میں یا روحانیت میں ترقی کے لئے عاجزی کا اظہار اور استغفار بہت ضروری ہے۔ورنہ تکبر کا خناس جو ہے اچھے بھلے لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اوپر جاتے جاتے نیچے کی طرف چلنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس وقت وہ نیکی اور علم کچھ کام نہیں آ رہا ہوتا۔پس رحیم خدا کی رحیمیت کے ساتھ استغفار بہت ضروری ہے۔اور اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رحیم کا لفظ جب استعمال کیا ہے وہاں اکثر جگہ پر صفت غفور کے ساتھ رحیم کو استعمال کیا گیا ہے۔پس صفت رحیمیت سے فیض پانے کے لئے اعمال صالحہ اور استغفار انتہائی بنیادی چیزیں ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہوا اور اس عمل کے متعلق کوئی کمی یا نقص رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل اور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔مگر رحیمیت میں فعل و عمل کو دخل ہے۔لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔خدا کا رحم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرئے“۔پس اس سے یہ بات مزید کھل گئی کہ رحیمیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غَفُور کو کیوں رکھا ہوا ہے۔اس لئے تا کہ بندوں کے لئے جو رحم اللہ تعالیٰ رکھتا ہے اس کی وجہ سے ان کو مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لے اور ڈھانپتے ہوئے ان کی پردہ پوشی فرماتا رہے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ کوئی عمل ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ عمل کوئی نہ ہو اور توقع ہو اللہ تعالیٰ سے پردہ پوشی کی۔اور پھر بدیوں پر اصرار نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی برائی ہوگئی تو پھر استغفار کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت شامل حال ہو اور اس کی پردہ پوشی ہو جائے تو بہ کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءٌ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ (الانعام: 55) یعنی تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت فرض کر دی ہے اور یہ کہ تم میں سے جو کوئی جہالت سے بدی کا ارتکاب کرے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو یا در کھے کہ وہ یعنی اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو یہاں بھی وہی ایک مثال میں نے پہلے دی تھی کہ اللہ تعالیٰ بخشتا تو ہے لیکن یہ ہے کہ انسان تو بہ کی طرف متوجہ ہو۔اُس قاتل کی جس نے 99 قتل کئے تھے اور 100 پورے کر دیئے تھے لیکن کیونکہ تو بہ کا خیال آ گیا نیکی کی طرف بڑھ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش کے سامان کر دیئے۔پس صفت رحیم سے زیادہ (ملفوظات جلد اول صفحه 126-127 جدید ایڈیشن ) | سے زیادہ فیض پانے کے لئے تو بہ کرتے ہوئے اس کے آگے جھکنا اور اعمال صالحہ بجالا نا انتہائی ضروری ہے۔ایک جگہ فلسفہ دعا اور رحیمیت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: دوسری رحمت رحیمیت کی ہے۔یعنی جب ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔غور کیا جاوے تو معلوم ہوگا