خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 530
530 خطبہ جمعہ 28 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم بندیوں اور تفرقہ بازیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنی فرقہ بندیوں کی وجہ سے باوجود اس کتاب کے موجود ہونے کے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔عجیب و غریب تو جیہیں اور تفسیر میں اس کی بیان کی جاتی ہیں۔اس زندگی بخش پانی کو مسلمانوں نے اپنے لئے اس وجہ سے بے فیض کر لیا ہے کہ اس کو سمجھ نہیں سکے۔اس زمانے میں جب آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے مبعوث ہونا تھا وہی فیض پاسکتے تھے جو اس عاشق صادق کی تفسیروں کو غور سے سنے جس کی خود اللہ تعالیٰ نے راہنمائی فرمائی ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ اعلان کیا کہ میں وہ پانی ہوں جو آیا آسماں سے وقت پڑے۔براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه (145 پس اب قرآنی فیض کے چشمے جو ہیں وہ بھی اسی عاشق صادق کی صحبت سے جاری ہونے ہیں۔پس عقل والوں کے لئے غور اور فکر کا مقام ہے۔کان رکھنے والوں کے لئے سننے کا پیغام ہے۔پس توجہ کریں اور سنیں۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ (هود: 104) یقیناً اس بات میں ایک عظیم نشان ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔یہ وہ دن ہے جس کے لئے لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور یہ وہ دن ہے جس کی شہادت دی گئی ہے۔پس جب ایک مومن ان واقعات کو پڑھتا ہے جو پہلی قوموں پر ہو چکے ہیں۔یعنی ان کے ظلموں اور زیادتیوں کی وجہ سے ان پر عذاب آئے یا ان آیات کو پڑھتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ میں ظلم و زیادتی کرنے والوں کو پکڑوں گا اور آخرت کا عذاب بہت سخت عذاب ہے تو ایک مومن کی روح کانپ جاتی ہے وہ اپنی اصلاح کی مزید کوشش کرتا ہے۔ہر قسم کے ظلم سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔بلکہ ایک مومن کی تو یہ شان ہے اور آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہی سکھایا ہے اور یہی اُسوہ ہمارے سامنے پیش فرمایا کہ جب بادل یا آندھی وغیرہ آتے تھے اور جب آپ اُن کو دیکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے بچنے کے لئے دعا کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی دعا کیا کرتے تھے۔پس مومن ان سب باتوں کو دیکھ کر اپنا جائزہ لیتے ہیں اور ان میں خوف اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔عذاب اور پہلے واقعات ، یہی چیز ہے جو مومن کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اللہ کرے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کا ہر فرد، آپ سے منسوب ہونے والا ہر شخص اس حقیقت کو دل کی گہرائی سے سمجھنے والا ہو کہ ظلم و تعدی اور حد سے بڑھی ہوئی نافرمانی اور بغاوت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو توڑ مروڑ کر اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا خدا کے ہاں قابل مواخذہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہم احمدیوں کو بھی سب سے بڑھ کر ان باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک دُعا کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں۔جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے حالات آج کل