خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 27
27 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ ابورافع نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق سے پہلے ہی یہ لکھ چھوڑا ہے کہ یقیناً میری رحمت میرے غضب پر فوقیت لے گئی ہے۔یہ بات اس کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی ہے۔(بخارى كتاب التوحيد۔باب قول الله تعالى بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ حدیث نمبر (7554 پھر ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم عبید اللہ کے پاس چند قیدی آئے تو ان قیدیوں میں سے ایک عورت بچے کو دودھ پلا رہی تھی ، جب وہ قیدیوں میں سے کسی بچے کو دیکھتی اس کو پکڑتی اپنے سینے کے ساتھ لگاتی۔(اس کا شاید بچہ گما ہوا تھا) اور اسے دودھ پلاتی ، تو نبی کریم صل اللہ نے ہم سے پوچھا، کیا تم گمان کر سکتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے کہا نہیں۔یہ کبھی اسے آگ میں نہیں پھینکے گی تو آپ صلی اللہ نے فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، جتنی یہ عورت اپنے بچے پر کرتی ہے۔(بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته حدیث نمبر (5999 پس رحمن خدا سزا نہیں دے رہا، یا وہ بندے کو سزا نہیں دیتا یا رحمن خدا عذاب نازل نہیں کرے گا یا نہیں کرتا بلکہ انسان اپنی شرارتوں اور خدا کی نافرمانیوں کا مرتکب ہو کر قانون قدرت کے تحت دوسری صفات کے تحت آکر جن میں سزا اور عذاب بھی ہے اس سزا اور عذاب کا مورد خود بن رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان احسانوں کا شکر ادا کرنے والا بنائے ، نہ کہ ہم اس کے احسانوں کی کسی قسم کی ناشکری کر کے رحمن خدا سے دور جانے والے بن جائیں، اور یہی پیغام ہم نے دوسروں تک پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم صحیح طور پر یہ پیغام پہنچاسکیں تا کہ اس شرک کی وجہ سے جو آج دنیا کی اکثریت میں ہے دنیا کو عذاب کی وارننگ دے کر اس سے بچانے والے بن سکیں۔دنیا کی بہت ہی بڑی اکثریت ہے جو عیسائی ہے، رحمن خدا کے ہی انکاری ہیں۔خدا تعالیٰ کی اس صفت کا ادراک ہی نہیں رکھتے کہ وہ رحمن خدا ہے۔اور اپنے اعمال اور اس کے آگے جھکنا ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے والا ہے۔نہ کسی دوسرے کی قربانی کام آئے گی ، نہ نجات دلانے کے لئے رحمن خدا کے مقابل پر کسی بندے کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ تو صاف شرک ہے جس کے بارے میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کو وارنگ دی تھی۔سورۃ مریم میں ہی عیسائیوں کے بارے میں یہ ذکر بھی ہے۔حضرت ابراہیم کی وہ وارننگ بھی پہلے سورۃ مریم کی ہے۔عیسائیوں کے بارے میں یہ کھول کر بیان کر دیا کہ رحمن کا بیٹا بنا کر انہوں نے اتنا بڑا شرک کیا ہے جس کی انتہا نہیں، قریب ہے کہ زمین آسمان پھٹ جائے۔( یعنی خدا کو ہر کام کے لئے اپنے بیٹے کی مدد کی ضرورت ہے )۔یہ اتنا خوفناک تصور ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو لانے والا ہے۔اللہ فرماتا ہے وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِذَا تَكَادُ السَّمْواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا۔أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا۔وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عبدا (مریم: 89-94) یعنی وہ کہتے ہیں رحمن نے بیٹا بنالیا ہے۔یقیناً تم ایک بہت بیہودہ بات بنالائے ہو۔قریب