خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 23

خطبات مسرور جلد پنجم 23 خطبہ جمعہ 19 جنوری 2007ء ہوں گے۔بہر حال یہاں آنحضرت علیم اللہ کے ذریعہ ہمیں بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا اظہار خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا بھی ہے۔اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو پیغام آنحضرت علی اللہ لے کر آئے اور جس کو لے کر آج آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھڑے ہوئے ، اس پیغام کو ہم آگے پہنچاتے رہیں اور لوگوں کے دلوں پر اثر نہ ہونے کی وجہ سے مایوس نہ ہوں۔کئی ایسے ملیں گے جن کے دل اس طرف مائل ہوں گے۔چاہے وہ قلیل تعداد میں ہی ہوں جو رحمن خدا سے ڈرنے والے ہیں، اس کے شکر گزار ہیں۔اس لئے یہ پیغام پہنچاتے چلے جانا ہے اور یہ پیغام دوسروں کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی، ان قبول کرنے والوں کے لئے بھی اور پہنچانے والوں کے لئے بھی مغفرت اور مزید انعاموں کا ذریعہ بن جائے گا۔پس ہمارا ایمان بالغیب بھی اُس وقت اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا اقرار کرنے والا ہو گا جب ہم اپنے اندر بھی خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کریں گے، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ، خالصہ اللہ اس پیغام کو آگے پہنچاتے چلے جائیں گے۔راستے کی کوئی روک ہمارے لئے اس کام کو بند کرنے والی نہیں ہونی چاہئے۔ختم کرنے والی نہیں ہونی چاہئے ، یہی ایک مومن کا خاصہ ہونا چاہیئے۔دنیا کو تباہی سے بچانے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ لوگ رحمن خدا کو سمجھیں ورنہ رحمن خدا کے احسانوں کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے ایسے عذابوں میں مبتلا ہوں گے جو کبھی بیماریوں کی صورت میں آتا ہے۔کبھی ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کی صورت میں آتا ہے۔کبھی ایک قوم دوسری قوم پر ظالمانہ رنگ میں چڑھائی کر کے ان سے ظالمانہ سلوک کر کے عذاب کو دعوت دیتی ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمینی اور سماوی عذاب آتے ہیں۔پس دنیا کوان عذابوں سے بچانے کی کوشش کرنا ہمارا کام ہے، جس کا بہترین ذریعہ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑنا ہے کیونکہ مُردوں کو زندگی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا فرض ہے جو احمدیت میں شامل ہونے کے بعد ہم پر عائد ہوتا ہے۔اپنے اپنے ماحول میں ، اپنے عمل سے بھی اور دوسرے ذرائع سے بھی رحمن خدا کا یہ پیغام پہنچائیں۔اس انعام کا دوسروں کے سامنے بھی اظہار کریں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور یہ کرنے سے ہی پھر ہم بھی رحمن خدا سے ڈرنے والوں میں شمار ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہی ، اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف جو اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہو،اس کا یہ پیغام پہنچارہے ہوں گے۔قرآن کریم میں رحمن کے حوالے سے ہی ذکر ملتا ہے کہ کس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو پیغام پہنچایا اور کس طرح نصیحت فرمائی۔فرماتا ہے يابَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَنَ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا۔يَا بَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَنِ وَلِيًّا (مريم: 45-46) اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر ، شیطان یقینا رحمن کا نا فرمان ہے۔اے میرے باپ یقینا میں ڈرتا ہوں کہ رحمن کی طرف سے تجھے کوئی عذاب پہنچے۔پس تو اس وقت شیطان کا دوست نکلے۔آج دنیا میں قسم ہ قسم کی بت پرستی ہے۔اس بت پرستی میں ڈوب کر لوگ شیطان کی عبادت کر رہے ہیں۔رحمن