خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد پنجم 314 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء بعض انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلا دوں۔سب جلسہ میں شامل ہونے والوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بارش کی وجہ سے بعض انتظامی وقتیں پیدا ہو سکتی ہیں اور بارش کے حوالے سے سب سے زیادہ کاروں کی پارکنگ کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔اس کے لئے جلسہ کی انتظامیہ نے یہ انتظام کیا ہے کہ یہاں سے دو تین میل کے فاصلے پر ایک پکی بہت بڑی پارکنگ کرائے پر لی ہے۔آپ میں سے اکثر دیکھ کر بھی آرہے ہوں گے۔تو وہاں سے منی بسز کے ذریعہ سے یہاں لانے اور لے جانے کا انتظام بھی ہے۔اس لئے اس بارہ میں تمام شامل ہونے والے انتظامیہ سے مکمل اور بھر پور تعاون کریں اور اس بات پر ضد نہ کریں کہ ہم نے حدیقہ المہدی کی پارکنگ میں ہی کار پارک کرنی ہے۔سوائے اس کے کہ انتظامیہ خود آپ کو اجازت دے۔انہوں نے اب کچھ حد تک اجازت دینی شروع کی ہے۔زمین بارش کی وجہ سے کافی نرم ہے اس لئے انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں اور اسی طرح پارکنگ کی جگہ سے منی بسر سے جو لانے لے جانے کا انتظام ہے وہاں بھی صبر اور حو صلے سے اپنی باری کا انتظار کریں۔ایک ڈسپلن کے ذریعہ سے آئیں اور جائیں۔گزشتہ سال جماعت کے ڈسپلن سے یہاں کی پولیس اور لوگ بہت متاثر ہوئے تھے۔اس تاثر کو کسی بھی صورت میں زائل نہ ہونے دیں بلکہ پہلے سے زیادہ پابندی کرتے ہوئے ثابت کریں کہ ہم ہر قسم کے حالات میں ڈسپلن کا اور تنظیم کا مظاہرہ کرنے والے لوگ ہیں۔ایک اور اہم بات سیکیورٹی کے حوالے سے ہے۔سب شامل ہونے والوں سے میں کہنا چاہتا ہوں اور تمام شعبہ جات کے کارکنان سے بھی اور جلسہ میں شامل ہونے والوں سے بھی کہ اپنے اردگر دما حول پر نظر رکھیں۔دنیا کے حالات اس قسم کے ہیں کہ کسی بھی قسم کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس ضمن میں ، میں خواتین سے کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ چیکنگ سے وہ بُرا مان جاتی ہیں، اس لئے مکمل تعاون کریں۔اگر آپ کو کوئی چیک کر لے تو اس میں کوئی بے عزتی کی بات نہیں ہے۔میں نے سنا ہے کہ بعض شکوہ کرتے ہیں کہ ہم فلاں عہد یدار کی عزیز یا خود عہد یدار ہیں اور اس کے باوجود انہیں چیک کیا گیا۔ہر عہدیدار یا کسی عزیز کو ہر ڈیوٹی والا تو جانتا نہیں ہے۔بعض دفعہ عورتوں کو بیگوں کی وجہ سے زیادہ چیک کرنا پڑتا ہے یہ مجبوری ہے۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مردوں کو بھی چیک کیا جائے تو انہیں بر انہیں منانا چاہئے۔جھے یادہے کہ ربوہ میں مسجد تھی میں معہ و عیدین پر چینگ ہوتی ہےاور کئی دفعہ مجھ بھی چیک کیا گیا۔میں نے تو کبھی برانہیں منا یا بلکہ جب حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے مجھے امیر مقامی بنایا تو تب بھی ایک دفعہ مجھے چیک کیا گیا۔تو چیکنگ میں کبھی برانہیں منانا چاہئے۔آپ کا مکمل تعارف ہر خادم کو نہیں ہوتا جیسا کہ میں نے آپ کو کہا۔تو اس