خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 303

خطبات مسرور جلد پنجم 303 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء ایک مشہور واقعہ ہے، کئی دفعہ ہم نے سنا کہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے مہمان خانہ کے کارکنان کو کہا کہ ہمارے بستر یکہ سے اتارو اور سامان لایا جائے ، چار پائیاں بچھائی جائیں۔تو لنگر خانہ کے ان ملازمین نے کہا کہ سامان اپنا خودا تاریں، چار پائیاں آپ کو مہیا ہو جائیں گی۔اس بات پر دونوں مہمان بڑے ناراض ہوئے ، رنجیدہ ہوئے اور فوراً اسی یکہ میں بیٹھ کر ، اسی ٹانگے میں بیٹھ کر واپسی کے لئے روانہ ہو گئے۔تو منشی ظفر احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات جب مولوی عبدالکریم صاحب کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو جانے دو، ایسے جلد باز لوگوں کو روکنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ بڑی جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہنا بھی مشکل تھا تیزی سے یعنی تیز قدم چلتے ہوئے ان کے پیچھے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چند خدام بھی ہمراہ تھے۔کہتے ہیں میں بھی ساتھ تھا تو نہر کے قریب پہنچ کر ان کا یکہ مل گیا اور حضور کو جب انہوں نے آتے دیکھا تو اس کو کھڑا کیا اور اس سے اتر گئے۔حضور نے انہیں واپس چلنے کا فرمایا اور ساتھ بڑی معذرت کی کہ آپ کو بڑی تکلیف پہنچی ہے۔چنانچہ وہ واپس ہوئے تو حضور نے انہیں یکہ پر سوار ہونے کے لئے فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ پیدل چلتا ہوں آپ ٹانگے میں بیٹھ کر چلے جائیں۔لیکن وہ شرمندہ ہوئے اور سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد جب مہمان خانے پہنچے تو حضور نے خود ان کے بستر اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر جب یہ حالت دیکھی تو خدام نے فوری طور پر ان کا سامان اتارا، انتظام کیا۔حضور نے ان کے لئے دونواڑی پلنگ منگوائے ، ان کے بستر کروائے ، ان سے کھانے وغیرہ کا پوچھا۔اس علاقے کے لوگ زیادہ چاول کھانے والے تھے۔جب تک کھانے کا انتظام نہیں ہو گیا وہیں تشریف رکھی۔پھر ( حضور کا یہ معمول تھا کہ جتنے دن وہ وہاں ٹھہرے، روزانہ ایک گھنٹے کے قریب ان کے پاس آکر بیٹھتے تھے۔ایک تقریب ہوتی تھی ، تقریر وغیرہ فرماتے تھے ) جس دن انہوں نے واپس جانا تھا صبح کا وقت تھا اس دن بھی حضور نے دو گلاس دودھ منگوا کر انہیں پلایا اور پھر نہر تک انہیں چھوڑ نے بھی گئے۔(سیرت المہدی حصہ چہارم غیر مطبوعہ روایت نمبر 1071 صفحه 477 تا 479) تو صرف یہ نہیں کہ ان کو ایک دفعہ واپس لے آئے اور بس مہمان نوازی ختم ہوگئی۔بلکہ با قاعدہ جتنے دن وہ رہے انہیں پوچھتے رہے روزانہ ایک گھنٹہ کے قریب جاکے ان کے پاس بیٹھتے رہے اور ان کی دلداری بھی کرتے اور ان کے سوالوں کے جواب بھی عطا فرماتے تھے۔انہیں اپنی مجلس سے فیضیاب فرماتے رہے تو یہ تھے آپ کی مہمان نوازی کے طریقے۔پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں 1901ء میں ہجرت کر کے قادیان آیا تو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تھا، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے رہنے کے لئے جو کمرہ دیا وہ حضور کے