خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد پنجم 304 خطبہ جمعہ 20 جولائی 2007ء اوپر والے مکان میں تھا ، اس میں صرف دو چھوٹی چھوٹی چار پائیاں بچھ سکتی تھیں۔کہتے ہیں چند ماہ ہم وہاں رہے۔ایک دن کا واقعہ وہ سناتے ہیں کہ یہ کمرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر اور صحن سے اتنا قریب تھا کہ باتوں کی آواز آیا کرتی تھی۔تو کہتے ہیں کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ بے انتہا مہمان آ گئے پورا گھر بھی بھرا ہوا تھا، جو رہائش کی جگہیں تھیں وہ بھی بھری ہوئی تھیں۔تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکرام ضیف پر مہمان نوازی پر حضرت بی بی صاحبہ (حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو پرندوں کا ایک واقعہ سنایا تو کہتے ہیں کیونکہ میں بالکل ساتھ تھا اس لئے صاف آواز میں سن رہا تھا۔فرمایا کہ دیکھو ایک دفعہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہو گئی ، رات اندھیر تھی ، قریب کوئی بستی نہیں دکھائی دی وہ ناچار ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے واسطے بیٹھ گیا اور اس درخت کے اوپر ایک پرندے کا آشیانہ تھا ، گھونسلہ تھا، پرندہ اپنی مادہ کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔( یہ ساری ایک حکایت ہے ) کہ دیکھو یہ مسافر جو ہمارے آشیانے کے نیچے آ بیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔تو مادہ نے بھی اس سے اتفاق کیا اور ہر دو نے مشورہ کیا کہ ٹھنڈی رات ہے ہم اس کو گرمی کس طرح پہنچا سکتے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ اپنا تنکوں کا گھونسلہ (آشیانہ ) توڑ کر نیچے پھینک دیتے ہیں اس کو آگ لگا کر یہ آگ سینکے گا ؟ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر جب مسافر نے اس کو اٹھا کر کے آگ لگائی تو وہ آگ سینکنے لگا سردی کا موسم تھا۔پھر ان پرندوں نے سوچا کہ اب اور مزید مہمان نوازی کیا کی جاسکتی ہے؟ اب ہمیں چاہئے کہ ان کے لئے کچھ کھانے کا انتظام کریں اور کھانے کے لئے ہمارے پاس کچھ ہے نہیں ، تو یہی ایک قربانی ہم دے سکتے ہیں کہ خود اس آگ میں جا کر گر جائیں۔چنانچہ وہ دونوں پرندے اس آگ میں گر گئے اور مہمان نے ان کو بھون کے کھالیا۔تو یہ حکایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت اماں جان کو سنائی کہ مہمان نوازی کے لئے قربانی کے یہ معیار ہونے چاہئیں۔مطلب یہ ہے کہ قربانی کرنی چاہئے ، یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو آگ میں ڈال لے۔پس ہر کارکن کو اس سوچ کے ساتھ ہر مہمان کا خیال رکھنا چاہئے کہ اُس کی مہمان نوازی کا حق ادا ہو، اُس کی ضرورت کا خیال رکھا جائے ، اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے، اپنی تکلیفوں کی کچھ پرواہ نہ کی جائے، کیونکہ حق ادا کرنے کے لئے تکلیفیں تو بہر حال برداشت کرنی پڑتی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ لنگر کے انچارج کو بلا کر کہا تھا کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرو ، سب مہمان تمہاری نظر میں ایک ہونے چاہئیں۔ہر ایک کی اس طرح خدمت کر وہ مہمان نوازی کرو ” سردی کا موسم ہے تو چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔فرمایا کہ ” تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو،