خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 296

خطبات مسرور جلد پنجم 296 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء کہ اللہ تعالی کے قرب پانے والے بنہیں، مومنین تسبیح کرتے ہیں، جمد کرتے ہیں ، عبادتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے حوالے سے جو بات کی جائے تو پھر اطاعت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایمان میں بڑھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ان خصوصیات کا حامل بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔: ” مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات وصدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے بجالا وے اور ہر ایک کارخیر کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہوا اور کسی تصنع و نمائش اور یاء کو اس میں داخل نہ ہو۔یہ حالت مومن کی اس کے نیچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ اس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔الغرض ہر ایک فعل اس کا اور ہر حرکت اور سکون اس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔اس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میں کسی بات میں اس قدرتر ڈ نہیں کرتا جس قدر کہ اس کی موت میں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرق رکھ دیا جاتا ہے۔غلام کو چاہئے کہ ہر وقت رضائے الہی کو ماننے اور ہر ایک رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔کون ہے جو عبودیت سے انکار کر کے خدا کوا پن محکوم بنانا چاہتا ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 343-344۔جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک سچا اور مضبوط رشتہ قائم کرتے ہوئے ان تمام خصوصیات کو اپنانے والے بنیں جو ایک سچے مومن کے لئے ضروری ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے اور ہمیں اپنے فضلوں کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھے۔( مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 27 جولائی تا 9 اگست 2007ء ص 15 تا 18)