خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد پنجم 291 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء حالات موسم کے لحاظ سے بڑے خراب ہو گئے ، اور کہتے ہیں کہ 30 جون کو تو یہ حال تھا کہ شدید بارشیں ، سڑکوں کے او پر پانی، گھر سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا اور بڑی فکر تھی ، بجٹ میں کافی کمی تھی لیکن شام تک کہتے ہیں، پتہ نہیں کیا معجزہ ہوا ہے کہ نہ صرف بجٹ پورا ہو گیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر وصولی ہوگئی اور اس طرح کئی جگہوں پر ہوتا ہے۔ایسی حالت میں جب کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی یہ خاص تائید اور مد تھی جس نے یہ ساری کمیاں پوری کردیں۔یہ نظارے اللہ تعالیٰ اس لئے دکھاتا ہے کہ مسیح موعود کی یہ جماعت مومنین کی ایک سچی جماعت ہے اور ان باتوں کو دیکھ کر تم اپنے ایمانوں میں مزید مضبوطی پیدا کرو اور میرے احکامات پر عمل کرو تا کہ میرے فضلوں کو انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی حاصل کرنے والے بنو اور بنتے چلے جاؤ۔پھر جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ایک مومن کے لئے آنحضرت ﷺ پر جوتعلیم اتری ہے اسے ماننا ضروری ہے۔آپ کو خاتم الانبیاء ماناضروری ہے۔اس یقین پر قائم ہوں اور یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم آخری شرعی کتاب ہے اور اس کے تمام احکامات ہمارے لئے ہیں اور ہمیں اس پر ایمان لانا اور ماننا اور عمل کرناضروری ہے۔پھر جس طرح قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء آئے تھے وہ بھی برحق تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے ، بعض کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور بہت سوں کا نہیں ہے ، ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔اور یہ بھی ایک مومن کی خصوصیت ہے اور یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے پہلے انبیاء کی صداقت پر بھی مہر لگادی اور آنحضرت ﷺ کو یہ مہر لگانے والا بنا یا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (البقرة: 120) - وَإِنْ مِنْ أَمَةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: 25) ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ہوشیار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔اور کوئی ایسی قوم نہیں جس میں ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو تو ہر قوم میں جو انبیاء آئے ان کی بھی اطلاع دے دی۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے یہ اعلان کروا دیا کہ تمام قوموں میں رسول آئے ہیں اس لئے جس قوم کا بھی یہ دعوی ہے کہ اس میں نبی آیا اور نبی کا نام لیتے ہیں ان کو ماننا ضروری ہے۔ایک مومن کو یہ حکم دیا کہ ان تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی تمہارے مومن ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہے۔اور پھر فرمایا کہ آخرت پر بھی یقین رکھو، یہ بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔اب یہ آخرت کیا ہے؟ آخرت کے معانی سیاق و سباق کے ساتھ یہ ہو سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو آپ کی غلامی میں آئے اس پر جو وحی نازل ہو اس پر بھی یقین رکھنا۔جو مسیح موعود اور مہدی معہود آئے گا یقین رکھو کہ وہ آئے گا اور اس پر ایمان لے آنا، یہ بھی ایک مومن کے ایمان کا حصہ ہے۔آخرت کو اُخروی زندگی بھی کہا جاتا ہے، لیکن جو پہلے معانی ہیں اس سیاق و سباق کے لحاظ سے وہ زیادہ بہتر ہیں اور یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فہم قرآن اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کا نتیجہ