خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 292
خطبات مسرور جلد پنجم 292 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء ہیں کہ یہ معانی ہم تک پہنچے ہیں اور ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔پس یہاں یہ بیان فرما کر کہ جس طرح تمہارے لئے پہلے انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح تمہیں اس یقین پر بھی قائم رہنا ہو گا کہ آخرین میں جو آنحضرت ﷺ کے غلام کی بعثت ہوگی اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ نکتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا۔آپ فرماتے ہیں کہ ” آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے، ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔اسی امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء کے یکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُونَ (البقرة: 5) میں تینوں وحیوں کا ذکر ہے بِمَا أُنْزِلَ اِلَيْكَ سے قرآن شریف کی وحی اور مَا أُنْزِلَ مِنْ قبلگ سے انبیاء سابقین کی وحی اور اخرة سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔اخرة کے معنی ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے وحیوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔دوسری وہ جو آنحضرت ﷺ سے قبل نازل ہوئی اور تیسری وہ جو آپ کے بعد آنے والی تھی۔( تفسیر حضرت مسیح موعود سورة البقرة آيت 5، ریویو آف ریلیجنز جلد 14 نمبر 4 مارچ اپریل 1915 صفحہ 64 حاشیہ ) پس جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی تصدیق ان مومنین کے لئے ہوگی جو پہلے انبیاء کی بھی تصدیق کریں گے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور بعد میں آنے والے کو بھی ما نہیں گے۔تو اس آیت نے اور وضاحت نے دلیل کو مزید مضبوط کر دیا۔پس ہر ایک احمدی جو حقیقی مومن ہے اور اس ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا ہے اس کو اس پیغام کو ماننے کے بعد اپنے ایمان میں ترقی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجالانے کی طرف مزید کوشش کرنی چاہئے۔پھر ایک مومن کی خصوصیت یہ ہے، جس کا قرآن کریم میں یوں ذکر آتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لله (البقرة: 166) یعنی اور جو لوگ مومنین ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔پس مومن ہونے کی یہ نشانی ہے کہ ایک سچے مومن کی زندگی صرف ایک ذات کے گرد گھومتی ہے اور گھومنی چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ایک مومن ، مومن کہلا ہی نہیں سکتا۔ایک مومن کا غیب پر ایمان ، نمازیں پڑھنا، قربانی کرنا ، انبیاء پر ایمان ، اس وقت کامل ہوگا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ان تمام احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس شدید محبت کا کیسا اعلیٰ نمونہ ہمارے سامنے رکھا کہ کفار بھی یہ کہہ اٹھے کہ عشق