خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد پنجم 250 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء کی وصیتوں پر بھی اسی نظریہ سے مورگیج کے مکان شامل کر لئے جاتے ہیں۔بہر حال اگر بعض علمی لوگ تحقیق کرنے کا شوق رکھتے ہیں تو اس بارے میں اگر ان کے سامنے کوئی اور پہلو آئے تو مجھے بتا ئیں اور تحقیق کریں تا کہ اس بارے میں مزید پتہ لگ سکے۔اسلام جیسا کہ میں نے کہا مواخات سے پُر معاشرے کے قیام اور ہر قسم کے جھگڑوں سے پاک معاشرے کے قیام اور صلح و صفائی اور سلامتی پھیلانے والے معاشرے کے قیام کے بارے میں توجہ دلاتا ہے۔ایک تو ہم دیکھ آئے ہیں کہ سود کی بڑی سختی سے مناہی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ سود کی وجہ سے بعض جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔پھر فرمایا کہ جب تم کسی کو قرض دیتے ہو تو اگر اس کے حالات بہتر نہیں ہیں تو اس کے حالات بہتر ہونے تک اسے مہلت دو۔فرماتا ہے وَ إِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ ، وَاَنْ تَصَدَّقُوا | خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: 281) اور کوئی تنگ دست ہو تو اسے آسائش تک مہلت دینی چاہئے اور اگر تم خیرات کر دو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔پس سود کا تو سوال ہی نہیں ہے جو کسی قسم کے زائد مطالبات تم کر سکو۔جو تم قرض دیتے ہو اس میں بھی قرض لینے والے کے معاشی حالات کا خیال رکھا کرو کیونکہ ایک دوسرے کا اس طرح خیال رکھنا آپس کی محبت اور پیار کو بڑھانے والا ہوتا ہے۔فرمایا کہ مقروض کی تنگدستی کا ہمیشہ خیال رکھو اور اگر دینے والے کی اتنی کشائش ہے کہ مجبور شخص کا قرض معاف کیا جا سکے ( اگر اس کی حقیقی مجبوری ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ بھی کرو۔تمہارا ی فعل تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہوگا۔یہاں میں ضمناً یہ بھی کہہ دوں کہ پہلے میں نے احمدی وکلاء کو بھی کہا تھا، بعض اسائکم (Asylum) کے کیس آتے ہیں تو احمدی وکلاء جو فیس چارج کرتے ہیں اس کو ذرا اتنی رکھا کریں کہ اس بیچارے شخص کو بالکل ہی مقروض نہ کر دیا کریں یا کم از کم یہ شرط ہو کہ اگر تمہارا کیس پاس ہو جاتا ہے تو اس کے بعد جب تمہیں کام مل جائے گا تو اس وقت معاہدے کے مطابق اتنی فیس دے دینا۔لیکن بہر حال کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا کسی جگہ بھی ہو ، اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے حصہ لینا ہے تو اپنے مقروض بھائیوں سے شفقت سے پیش آؤا اور انہیں فائدہ پہنچاؤ اور یہ فائدہ ہی تمہیں پھر اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے والا بنائے گا۔ایک مسلمان کو اور خاص طور پر ایک احمدی کو اس طرف نظر رکھنی چاہئے۔اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالی لحاظ سے کسی پر فضلیت بخشی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس انعام کی شکر گزاری کا حقیقی طریق یہ ہے کہ مالی لحاظ سے کمزور بھائیوں کی مدد کی جائے۔اگر سخت رویہ رکھو گے تو پھر یا درکھواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور تمہارے سے بھی سختی کر سکتا