خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد پنجم 245 24 خطبہ جمعہ 15 جون 2007 ء ( فرمودہ مورخہ 15 جون 2007 (15 احسان 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج بھی میں گزشتہ خطبہ والے مضمون کو ہی جاری رکھوں گا کہ معاشرے کے جھگڑے اور فسادوں کو ختم کرنے اور سلامتی اور امن اور پیار اور صلح کو پھیلانے کے لئے مالی لین دین کے معاہدے، تجارتی معاہدے یا قرض وغیرہ لینا دینا ہو تو کس طرح ہونے چاہئیں، اسلامی تعلیم ہمیں اس بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے۔گزشتہ خطبہ میں اس سلسلہ میں سود کا ذکر ہورہا تھا کہ سود بھی ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے میں فساد پھیلانے کی وجہ بنتا ہے اور سود کی بڑی شدت سے اللہ تعالیٰ نے مناہی فرمائی ہے۔اس ضمن میں قرآنی احکامات کیا ہیں وہ ہم دیکھیں گے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو اپنے سے جنگ کرنے والا ٹھہرایا ہے۔پس یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا ہر قسم کے شر سے بچ کر رہنا اور سلامتی میں رہنا اور سلامتی پھیلانا بہت زیادہ پسند ہے۔جبکہ سود کے ایسے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں اور بعض مثالیں ایسی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات دیکھتے ہی دیکھتے سود خوروں کے ہاتھوں ایک اچھا بھلا صاحب جائیداد آدمی دیوالیہ ہو جاتا ہے اور در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ہنستا بستا گھر مایوسیوں اور محرومیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔پھر ان کے بچے بھی انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔اور یہ سب اگر مسلمانوں کے گھروں میں ہو تو اس لئے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے واضح حکم کے باوجود کہ یہ چیز نہ کرو اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور بعض دفعہ یہ سود کی رقم معمولی اور غیر ضروری اخراجات کے لئے لی جاتی ہے، تو جہاں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کو وارننگ دی ہے کہ ضرورتمندوں کی مجبوریوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ وہاں قرض لینے والوں کے لئے بھی وارننگ ہے کہ بلاوجہ کے قرضوں میں مبتلا ہو کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا امن اور سکون برباد نہ کرو۔میرے علم میں ہے کہ بعض لوگ مثلاً لندن آتے ہیں اور سود خوروں سے سود پر قرض لے لیتے ہیں۔کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو نیک مقصد کے لئے ، جلسہ پر آنے کے لئے یہ قرض لے کر آئے ہیں تو یہ بالکل غلط بات ہے۔یہ تو اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔اگر جج کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر وسائل نہ ہوں تو نہ کرو تو یہ بالکل غلط چیز ہے کہ یہ بہانے بنا کر آ جاتے ہیں، اور مقصد بھی ہوتے ہوں گے۔تو اس لحاظ سے اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ابھی بھی جلسہ ہو رہا ہے، انشاء اللہ لوگ آئیں گے تو جن کے وسائل ہیں انہی کو آنا چاہئے۔بلا وجہ کے قرض