خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 138

138 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء کریں اور ہمیشہ دعاؤں سے آئندہ بھی اپنے عہدیداروں کی مدد کریں اور میری بھی مدد کریں۔اللہ مجھے بھی آپ کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق دیتار ہے اور جو کام میرے سپر د ہے اس کو ادا کرنے کی احسن رنگ میں توفیق دیتار ہے۔دوسری اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ گھر کے سربراہ کی ہے۔گھر کا سر براہ ہو یا بعض اوقات (جیسا کہ میں نے کہا ) بعض خاندانوں نے بھی اپنے سر براہ بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ اپنے بچوں یا خاندان کی تربیت کی ذمہ داری ان کی ہے۔ان کے اپنے عمل نیک ہونے چاہئیں۔ان کی اپنی ترجیحات ایسی ہونی چاہئیں جو دین سے مطابقت رکھتی ہوں، نظام جماعت اور نظام خلافت سے گہری وابستگی ہو۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پابندی کی طرف پوری توجہ اور کوشش ہو تبھی صحیح رنگ میں اپنے زیر اثر کی بھی تربیت کر سکیں گے۔خود نمازوں کی طرف توجہ ہوگی تو بیوی بچوں کو نمازوں کی طرف توجہ دلا سکیں گے۔خود نظام جماعت کا احترام ہوگا تو اپنے بیوی بچوں کو اور خاندان کو نظام جماعت کا احترام سکھا سکیں گے۔خود خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنے والے اور اس کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں گے تو اپنے بیوی بچوں اور اپنے زیر نگیں کو اس طرف توجہ دلاسکیں گے۔پس خاندان کے سربراہ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، ورنہ یا درکھیں کہ جزا سزا کا دن سامنے کھڑا ہوا ہے۔پھر بیوی کو توجہ دلائی کہ خاوند کے گھر کی، اس کی عزت کی ، اس کے مال کی اور اس کی اولاد کی صحیح نگرانی کرے۔اس کا رہن سہن، رکھ رکھاؤ ایسا ہو کہ کسی کو اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو۔خاوند کا مال صحیح خرچ ہو۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ مال لوٹاتی رہتی ہیں یا اپنے فیشنوں یا غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرتی ہیں ان سے پر ہیز کریں۔بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ انہیں جماعت سے وابستگی اور خلافت سے وابستگی کا احساس ہو۔اپنی ذمہ داری کا احساس ہو۔پڑھائی کا احساس ہو۔اعلیٰ اخلاق کے اظہار کا احساس ہوتا کہ خاوند کبھی یہ شکوہ نہ کرے کہ میری بیوی میری غیر حاضری میں ( کیونکہ خاوند اکثر اوقات اپنے کاموں کے سلسلہ میں گھروں سے باہر رہتے ہیں ) اپنی ذمہ داریاں صحیح ادا نہیں کر رہی۔اور پھر یہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خاوند کا شکوہ یا زیادہ سے زیادہ اگر سزا بھی دے گا تو یہ تو معمولی بات ہے۔یہ تو سب یہاں دنیا میں ہو جائیں گی لیکن یا درکھوتم جزا سزا کے دن بھی پوچھی جاؤ گی۔اور پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہونا ہے۔اللہ ہر ایک پر رحم فرمائے۔اور پھر فرمایا ما لک کے مال کی نگرانی کے بارے میں بھی ہر شخص پوچھا جائے گا۔اس کی کچھ مثال تو میں نے پہلے دے دی ہے، ایک تو ظاہری طور پر جو کسی کی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ ادا نہیں کر رہا تو مال کی نگرانی نہیں کر رہا۔ہر پیشہ کا آدمی اگر اپنے پیشہ سے انصاف نہیں کر رہا تو اس کے سپر د حکومت کی طرف سے یا جماعت کی طرف سے یا معاشرے کی طرف سے جو ذمہ داری کی گئی ہے اس نے اس کی ادائیگی نہیں کی اور وہ جہاں دنیاوی قانون اور قواعد کے لحاظ سے اس دنیا میں محکمانہ طور پر اس کا جوابدہ ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔یا پھر روحانی نظام میں، جماعت کے نظام میں عہدیداران اور بڑے پیمانے پر امام تک بات پہنچتی ہے کہ جماعت کے افراد جو اللہ کا مال ہیں