خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 133

خطبات مسر در جلد پنجم 133 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء پھر فتح مکہ کے موقع پر ہی تاریخ میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔اے قریش کے گروہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری زمانہ جاہلیت والی نفرت کو ختم کر دیا ہے اور اسے آباء واجداد کے ذکر کے ساتھ عظمت دی ہے اور تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔پھر آنحضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا (سورة الحجرات : 14) اے لوگو یقینا ہم نے تمہیں زاور مادہ پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔لیکن اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔پھر فرمایا: اے قریش اتم مجھ سے کس قسم کے سلوک کی توقع رکھتے ہو؟ قریش نے کہا کہ ہم آپ سے بھلائی کی ہی امید رکھتے ہیں کیونکہ آپ ہمارے معزز بھائی اور ہمارے معزز بھائی کے بیٹے ہیں۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سہیل بن عمرو نے اس سوال پر کہا کہ ہم اچھی بات کرتے ہیں اور آپ سے اچھی امید وابستہ کرتے ہیں۔کیونکہ آپ ایک معزز بھائی اور معزز بھائی کے بیٹے ہیں اور آپ ہم پر قدرت بھی رکھتے ہیں۔قریش کا یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں ویسا ہی کہتا ہوں جیسا کہ میرے بھائی یوسف نے کہا تھا ك لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین (یوسف: 93) آج کے دن تم پر کوئی علامت نہیں۔اللہ تمہیں بخش دے گا۔وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔کہتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ لوگ ایسے نکلے جیسے قبروں سے نکلے ہوں اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔(تلخیص از السیرة الحلبيه جلد 3 صفحه 140-141 باب ذکر مغازيه فتح مکه مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت) | جب غلبہ اور قدرت مل گئی، جب آپ بادشاہ بن گئے تو تب بھی آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا پر تو بنتے ہوئے احسان کا سلوک فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو بنتے ہوئے اس نبی کی سنت پر چلتے ہوئے ، اپنے نفسوں کو قابو میں رکھتے ہوئے ، اپنے اپنے دائرے میں ایک دوسرے سے احسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جزا سزا کے دن ہم ایسے عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں جو اس کے رحم اور بخشش کو کھینچنے والے ہوں۔