خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 100
100 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم ہو تو مالکیت یوم الدین تمہیں ان جنتوں کا وارث بنائے گی جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یوں فرمایا ہے کہ الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فِي جَنْتِ النَّعِيمِ (الحج: 57) کہ سلطنت اس دن اللہ ہی کی ہوگی۔وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے نعمتوں والی جنتوں میں ہوں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مالک کے معنی میں فرمایا تھا کہ قبضہ تام والا ، اور تصرف تام والا ، اس کو ہر چیز پر مکمل قبضہ اور مکمل تصرف ہو۔اس آیت میں یہ وضاحت فرما دی کہ جزا سزا کا دن کیسا ہوگا - اَلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ کہ سلطنت اس دن اللہ تعالیٰ کی ہوگی یعنی وہ صرف مالک ہی نہیں ، وہ بادشاہ بھی ہوگا۔کسی کو خیال آ سکتا ہے کہ مالک ہے اور جیسا کہ پہلے بھی اس کے مختلف معنی میں بیان ہو چکا ہے کہ ہر مالِك صاحب اختیار نہیں ہوتا لیکن یہ مسالک وہ ہے جس کی بادشاہت بھی ہے۔پس اس کی وضاحت فرما دی کہ ہر چیز مکمل طور پر اس کے تصرف میں ہے۔دنیاوی بادشاہ کسی نہ کسی رنگ میں دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ان کے سامنے لوگ کھڑے بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسا بادشاہ ہے جو کسی کا محتاج نہیں، نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں۔اس لئے اس کی عام دنیاوی بادشاہوں کی طرح کی بادشاہت نہیں ہے بلکہ مالک ہونے کی وجہ سے مکمل تصرف والی بادشاہت ہے جو زمین پر بھی قائم ہے اور آسمان پر بھی قائم ہے۔اس زندگی میں اُس نے اپنی مالکیت کے تحت چھوٹ دی ہوئی ہے جیسا کہ میں نے بتایا۔اچھے اور برے عمل بتا دیئے کہ یہ عمل اچھے عمل ہیں۔یہ کرو تو میری طرف سے بہترین جزا پاؤ گے۔یہ عمل برے عمل ہیں۔اگر یہ کرو گے تو پھر میں سزا کا بھی حق رکھتا ہوں ، سزا دے سکتا ہوں، سزا دوں گا۔اور جزا سزا کا فیصلہ مکمل طور پر میرے ہاتھ میں ہے۔اس بارے میں کوئی کسی کے کام نہیں آ سکتا، کوئی سفارش کام نہیں آئے گی۔اس وقت کی کوئی معافی کا م نہیں آئے گی۔اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرنے والا ہے۔پس ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنات نعیم یعنی نعمتوں والی جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔جبکہ کافروں کو اللہ تعالیٰ اس حوالے سے ڈراتا ہے جیسا کہ مختلف جگہوں پر برے اعمال کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ میں ان کو ان کے عملوں کی سزا دوں گا۔ایک جگہ فرمایا ہے اِنَّ كِتبَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجَيْنِ (المطففين: 8) یعنی بدکاروں کی جزا کا حکم یقیناً ایک دائی کتاب میں ہے۔یہ کا فراور فاجر سمجھتے تھے کہ جزا سزا کا دن نہیں آنا ، وہ اللہ تعالیٰ کی چھوٹ کو ، رعایت کو ، اس کی مالکیت کا نہ ہونا سمجھتے تھے۔جزا سزا کے دن کو اس دنیا میں جھٹلاتے رہے، اللہ تعالیٰ کی حدود کوتوڑتے رہے۔اس لئے