خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد چهارم 604 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عام فیض ہے جو ہر چیز کے حصے میں آ رہا ہے یا ہر چیز اس سے فیض پارہی ہے، حصہ لے رہی ہے، لیکن اس کی ربوبیت کا ایک امتیازی سلوک اُن لوگوں سے ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور ان میں سب سے اول نمبر پر انبیاء علیہم السلام ہیں اور انبیاء میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آج میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کے بعض واقعات کا ذکر کروں گا جو اللہ تعالیٰ کے خاص سلوک کے حصہ دار بنے اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے تمام انعاموں کی طرح صفت ربوبیت سے بھی سب سے بڑھ کر فیض پانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں چند واقعات یہاں بیان کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کی خواہشات اور ضرورتوں کو پورا فرمایا کرتا تھا اور نہ صرف براہ راست آپ بلکہ آپ کی وجہ سے آپ کے صحابہ بھی اُن انعاموں سے حصہ لیتے تھے جو صفت ربوبیت کے تحت اللہ تعالیٰ آپ پر فرماتا تھا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پیدائش کے وقت سے، بلکہ اس سے بھی پہلے سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ایک روشن نشان ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لحد رت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جلووں کی شان دکھانے والا ہے جس کا بیان نہ کسی طرح سمیٹا جا سکتا ہے، نہ ختم ہوسکتا ہے۔اس میں روحانی معجزات کے جلوے بھی ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا پتہ چلتا ہے اور ظاہری مادی معجزات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے پیارے کے ساتھ اپنی صفت کا اظہار فرمایا کرتا تھا۔سب سے پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ربوبیت کے ایک عظیم روحانی جلوے کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” رب العالمین کی صفت نے کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں نمونہ دکھایا۔آپ نے عین ضعف میں پرورش پائی۔کوئی موقع مدرسہ، مکتب نہ تھا جہاں آپ اپنے روحانی اور دینی قومی کونشو و نما دے سکتے۔کبھی کسی تعلیم یافتہ قوم سے ملنے کا موقع ہی نہ ملا۔نہ کسی موٹی سوٹی تعلیم کا ہی موقع پایا اور نہ فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کے حاصل کرنے کی فرصت ملی۔پھر دیکھو کہ باوجود ایسے مواقع کے نہ ملنے کے قرآن شریف ایک ایسی نعمت آپ کو دی گئی جس کے علوم عالیہ اور حقہ کے سامنے کسی اور علم کی ہستی ہی کچھ نہیں۔جو انسان ذراسی سمجھ اور فکر کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھے گا اس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کے تمام فلسفے اور علوم اس کے سامنے بیچ ہیں اور سب حکیم اور kh5-030425