خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد چهارم 555 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006ء ہیں یا پنشن وغیرہ سے جو رقم ملی ہے اس سے پوری ہو رہی ہیں۔بعض لوگ تو ریٹائر منٹ کے بعد دوبارہ کام تلاش کرتے ہیں کیونکہ بعض ایسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کو پورا کرنا ہوتا ہے، بچے وغیرہ ابھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔تو بہر حال جن کی ذمہ داریاں ایسی نہیں ہیں اور اگر صحت اچھی ہے تو ان کو اپنے آپ کو جماعتی خدمات کے لئے رضا کارانہ طور پر پیش کرنا چاہئے۔لیکن بعض دفعہ ذہنوں میں یہ بات آ جاتی ہے کہ شاید ہم رضا کارانہ کام کر کے جماعت پر کوئی احسان کر رہے ہیں، تو اگر اپنے آپ کو پیش کرنا ہو تو اس سوچ کے ساتھ آئیں کہ اگر ہم سے کوئی جماعتی خدمت لے لی جائے تو جماعت اور خدا تعالیٰ کا ہم پر احسان ہوگا۔ایک مطالبہ نو جوانوں کا بیکاری کی عادت ختم کرنے کا تھا۔یہ بھی بڑی خطرناک بیماری ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔پاکستان میں بعض بے کار نوجوان اس لئے بے کار ہیں کہ یا تو ان کے جو رشتہ دار، والدین، بھائی وغیرہ باہر ہیں وہ باہر سے رقم بھیج دیتے ہیں اس لئے ذمہ داری کا احساس نہیں۔یا اس امید پر بیٹھے ہیں کہ باہر جانا ہے۔اب باہر جانا بھی اتنا آسان نہیں رہا، ان لوگوں کو بھی غلط امیدوں پر نہیں بیٹھنا چاہئے۔اور جو آتے ہیں ان کے بھی یہاں اتنی آسانی سے کیس پاس نہیں ہوتے۔اس لئے بلا وجہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے اور دھوکے میں نہ رہیں۔اپنے نفس کو دھوکہ نہ دیں اور اپنے آپ کو سنبھالیں۔جماعت اور ذیلی تنظیموں کو بھی اس بارے میں معین پروگرام بنانا چاہئے اور نو جوانوں کو سنبھالنا چاہئے۔یہ لوگ جو فارغ بیٹھے ہیں، فارغ بیٹھے یہ مطالبے کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کسی طرح باہر جانے کا انتظام ہو جائے ، بعض لڑکوں کے ماں باپ لکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے حالات خراب ہیں باہر بلوا لیں۔باہر بلوانا کون سا آسان ہے۔یا ہماری شادی باہر کروا دیں یا جو بھی ذریعہ ہو۔اور ایسے لوگوں میں سے جب کسی کی شادی یہاں ہو جاتی ہے اور یہاں آ جاتے ہیں تو جب ان ملکوں میں ان کا Stay پکا ہو جاتا ہے تو پھر بیویوں پر ظلم کرنے شروع کر دیتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ بھی ایک غلط رو خاص طور پر پاکستان میں اور ہندوستان میں چل پڑی ہے۔ایسے نوجوانوں کو میں کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں محنت کی عادت ڈالیں اور محنت کر کے کھائیں۔اس دوران میں اگر باہر کا کوئی انتظام ہو جاتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن صرف اس لئے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھے رہنا کہ باہر جانا ہے، اس سے بہت ساری غلط قسم کی عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور بہت ساری برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر وہ برائیاں معاشرے میں ، اس ماحول میں پھیلتی شروع ہو جاتی ہیں۔اسی طرح بعض ایسے ہیں جو یہاں آ کر بھی ہنر نہیں سیکھتے ، زبان نہیں سیکھتے ، اور ذراسی کوئی تکلیف ہو جائے تو بیماری کا بہانہ کر کے گھر بیٹھ جاتے ہیں۔کیونکہ مد دل جاتی ہے اس لئے کام نہیں کرتے۔بیکاری کی عادت کے خلاف ایسی مہم یہاں بھی چلانے کی بہت ضرورت ہے۔بہر حال یہ چند مطالبات میں نے بیان کئے ہیں، جماعتیں اپنے حالات کے مطابق جائزہ لیں اور kh5-030425