خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد چهارم 525 خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006 ء اور گناہوں سے درگزر فرما۔انہیں بخش دے اور انہیں معاف فرما۔ان سے صلح فرما۔انہیں پاک وصاف کر اور انہیں ایسی آنکھیں دے جن سے وہ دیکھ سکیں اور ایسے کان دے جن سے وہ سن سکیں اور ایسے دل دے جن سے وہ سمجھ سکیں اور ایسے انوار عطا فرما جن سے وہ پہچان سکیں۔اور ان پر رحم فرما اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے درگز رفر ما کیونکہ یہ ایسی قوم ہیں جو جانتے نہیں۔اے میرے رب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ اور ان کے بلند درجات اور راتوں کے اوقات میں قیام کرنے والے مومنین اور دو پہر کی روشنی میں غزوات میں شریک ہونے والے نمازیوں اور جنگوں میں تیری خاطر سوار ہونے والے مجاہدین اور ام القری مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرنے والے قافلوں کا واسطہ ! تو ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان صلح کروا۔تو ان کی آنکھیں کھول دے اور ان کے دلوں کو منور فرما۔انہیں وہ کچھ سمجھا جو تو نے مجھے سمجھایا ہے اور ان کو تقویٰ کی راہوں کا علم عطا کر۔جو کچھ گزر چکا وہ معاف فرما۔اور آخر میں ہماری دعا یہ ہے کہ تمام تعریفیں بلند آسمانوں کے پروردگار کے لئے ہی ہیں۔“ ( ترجمه از عربی عبارت۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 23,22) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنی دعائیں کی ہیں، اتنے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی، پھر بھی یہ قوم کو برائیوں اور بگاڑ کی طرف لیتے چلے جارہے ہیں۔اس کے بعد تو اللہ تعالیٰ جو تقدیر چلاتا ہے اور جو اس کا منطقی نتیجہ نکلنا چاہئے وہ نکلے گا انشاء اللہ۔لیکن ہمیں بہر حال دعا کرنی چاہئے ، اگر ان کے لئے اصلاح مقدر ہے تو اللہ تعالیٰ جلد ان کی اصلاح فرمائے تاکہ یہ مزید گناہوں سے بچ جائیں اور قوم مزید بگڑنے سے محفوظ رہے۔ورنہ ایسے لوگ جو سردار ہیں، جنہوں نے قوم میں تفرقہ پیدا کیا ہوا ہے ان کو پھر اللہ تعالیٰ خود نبیٹے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعاؤں کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتداء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا نہ تلوار سے۔ہر ایک امر کے لئے کچھ آثار ہوتے ہیں اور اس سے پہلے تمہیدیں ہوتی ہیں۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔بھلا اگر ان کے خیال کے موافق یہ زمانہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آکر ان کو سلطنت دلائی تھی تو چاہئے تھا کہ ظاہری طاقت ان میں جمع ہونے لگتی ہتھیار ان کے پاس زیادہ رہتے ،فتوحات کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جاتا۔مگر یہاں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے۔ہتھیار ان کے ایجاد نہیں ، ملک و دولت ہے تو اوروں کے ہاتھ ہے، ہمت و مردانگی ہے تو اوروں میں۔یہ ہتھیاروں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج۔دن بدن ذلت اور kh5-030425