خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد چہارم 497 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 ہے اور جس طرف ہمیں بلایا ہے وہی اصل عبادت اور قربانی کا طریق ہے جسے ہراحمدی نے اپنانا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی خلاف اسلام یا شریعت کے خلاف حکم نہیں دیا بلکہ جن معاملات کو ، جن باتوں کو غلط سمجھ کر بعض علماء نے جن کو اتنا فہم و ادراک نہیں تھا پھیلانا چاہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے بارہ میں صحیح رہنمائی کی کہ حقیقت میں کیا چیز ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ اس دعا کے ساتھ ، اس تعلیم کے ساتھ ، اس صحیح اسلامی تعلیم کے ساتھ چھٹے رہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں پہنچائی ، ہمیں سکھائی ، تا اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرماتے ہوئے ہم پر رحم فرماتا رہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا ہی ثمرہ ہیں جنہوں نے اس زمانے میں صحیح رہنمائی کرنی تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی بخشش اور رحم طلب کرنے کیلئے بعض دعا ئیں سکھائی ہیں۔بعض دعائیں میں مختصراً بغیر کسی تفصیل کے پڑھتا ہوں۔فرمایا وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرُ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِيْنِ (المؤمنون: 119) تو کہہ اے میرے رب ! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔پھر ایمان کی مضبوطی کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی کہ ربَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران:17) اے ہمارے رب یقیناً ہم ایمان لے آئے پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پھر انجام بخیر کی اور بخشش کی دعا سکھائی ، ثابت قدم رہنے کی دعا سکھائی کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْعَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( آل عمران : 194) کہ اے ہمارے رب ! یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا جو ایمان کی منادی کر رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔پس ہم ایمان لے آئے۔اے ہمارے رب پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکیوں کے ساتھ موت دے۔یہ دعا بھی جیسا کہ میں نے کہا ایمان میں مضبوطی حاصل کرنے کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ کی بخشش حاصل کرنے اور انجام بخیر کے لئے ہے۔کہ اے اللہ ! ہم نے اس زمانے کے امام کو مان کر جو روحانی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہیں ہمارے گناہوں کی زیادتی ، ہماری کمزوریاں، ہماری کو تا ہیاں اس میں روک نہ بن جائیں۔اس زمانے کے امام کو ماننے کے بعد ، قبول کرنے کے بعد اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ہم اس روشنی سے بے بہرہ نہ رہ جائیں جو اصل میں تیرے نور کی روشنی ہے اور جو اس آنے والے نے ہمیں دی ہے۔پس ہمارے گناہ بخش اور آئندہ بھی ان گناہوں سے بچا اور اس دعویدار کے دعوئی پر مکمل ایمان لانے والوں اور ان برکات سے حصہ پانے والوں میں ہمیں شامل کرتا رہ جو اس کے ساتھ مقدر