خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 493

493 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہوئے ، اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اُن تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں نمازیں ادا کرتا ہے تو وہ ایسی نمازیں نہیں ہوتیں جو الٹا کر منہ پر ماری جانے والی نمازیں ہوں۔اور یہی مقصد انسان کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ہر نیکی کی طرح نمازیں پڑھنے کی یہ توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔اس لئے قرآن کریم میں ہمیں ایسی دعا سکھائی جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ ہماری نسلوں کے لئے بھی ہے۔اور جب نسلاً بعد نسل جب یہ دعا مانگی جاتی رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنی اس دعا کے طفیل جو اس نے ہمیں سکھائی ہے عبادت کرنے والے بھی پیدا فرماتا چلا جائے گا۔فرماتا ہے کہ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِى رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاءِ (ابراھیم :41) اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔اے ہمارے رب اور میری دعا قبول کر۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے انبیاء کے ذریعہ سے دعا ئیں سکھائی ہیں۔یہ دُعا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی کہ جس طرح مجھے نمازوں پر قائم کیا ہے اسی طرح میری نسلوں میں بھی قائم کرتارہ۔اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن کی نسل میں سے وہ نبی بر پا ہونے والا تھا جو تمام نبیوں سے افضل تھا اور ہے، یہ دعا اُس نبی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی مانگی تھی تا کہ آپ کی امت میں بھی نمازی پیدا ہوتے چلے جائیں۔پس یہ دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مقام کو بھی ظاہر کرنے والی ہے کہ آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی دعائیں کر رہے ہیں۔اور یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے سکھائی ہے کہ جیسا کہ میں نے کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام تو نماز قائم کرنے والے تھے، آپ نے یہ دعا کی کہ میں بھی نمازیں قائم کرنے والوں کا امام ہوں اور ہمیشہ رہوں اور میری نسلیں بھی ہمیشہ نمازیں قائم کرنے والے بناتی چلی جائیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دعا کا علم دے کر ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا کہ آپ سبھی اس مقام تک پہنچے ہوئے ہیں۔جہاں آپ نماز قائم کرتے ہوئے اپنی امت کیلئے بھی نمازیں قائم کرنے والے پیدا ہونے کیلئے دعا کرتے ہیں۔دوسرے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تو اللہ تعالیٰ نے نبی پیدا فرمائے تھے اور گو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی لیکن آپ کی امت کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری اُمت میں سے بھی میں ایسے نیک فطرت علماء پیدا کرتا رہوں گا جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے برابر ہیں اور اس زمانے میں یہ نیک فطرت علما ء وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس زمانے کے مسیح و مہدی کو مان لیا۔وہ علماء جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم کرنے والے اور عبادتیں کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔وہ علماء نہیں جو آج کل سیاست میں گرفتار ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا کوئی معمولی اور عارضی دعا نہیں تھی بلکہ یہ دعا قیامت تک کے