خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 396
خطبات مسرور جلد چهارم 396 خطبه جمعه 11/اگست 2006 ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے کہ مشکلات کو 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 207 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 232 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حل کر دیتا ہے۔“ پھر آپ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعا ئیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پُر کرو۔جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا تعالیٰ اسے بر باد نہیں کیا کرتا۔لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں۔اگر تم ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یا درکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہت پکا ہے، وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہئے جب تک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔جو لوگ تھک جاتے اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے۔میرے نزدیک دعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں، خیالی بات نہیں۔جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعہ اسے آسان کر دیتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ دعا بڑی زبر دست اثر والی چیز ہے۔بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں۔دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے۔اور وہ کیا چیز ہے جو دعا سے حاصل نہیں ہوتی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے۔اور خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پر ایمان ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 205 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔دعا ایک زبر دست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہو جاتے ہیں اور دشوار گزار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔کیونکہ دعا اس فیض اور قوت کو جذب کرنے والی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتی ہے۔جو شخص کثرت سے دعاؤں میں لگا رہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پالیتا ہے۔ہاں نری دعا خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اول تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائے۔یعنی کوشش کرنا ضروری ہے۔عمل بھی کرنا ضروری ہے اور اس کے ساتھ دعا سے کام لے، اسباب سے کام لے۔اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا یہ