خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 377

377 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں۔یہاں اس نئی جگہ پر حديقة المهدی میں یہ ہمارا پہلا جلسہ ہورہا ہے انشاء اللہ تعالی۔اب شروع ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامیاب کرے۔اور شامل ہونے والے جتنا زیادہ اعلیٰ اخلاق اور قانون اور قواعد کی پابندی کا مظاہرہ کریں گے اتنا زیادہ انشاء اللہ تعالیٰ ہمارے آئندہ جلسوں کے یہاں انعقاد کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔پس جہاں یہ ایک بچے احمدی مسلمان کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کا خیال رکھے وہاں یہ جماعتی ذمہ داری بھی بن گئی ہے کہ آپ کی ذراسی حرکت ، چاہے وہ جلسہ گاہ کے اندر ہو یا اس پورے حدیقہ کے کسی بھی کونے میں ہو یا باہر سڑک پر ہو، وہ صرف آپ کے اخلاق کا عکس نہیں دکھا رہی ہوتی بلکہ اس سے اس علاقے میں جماعتی تصویر ابھر رہی ہوگی۔پس آپ سب کا یہ فرض ہے کہ کسی بھی رنگ میں کوئی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دینا جس سے علاقے میں کسی قسم کا غلط تصور جماعت کے بارے میں ابھرے، نہ ہی آپس کے معاملات میں، نہ ہی قریب کی آبادیوں کے ساتھ معاملات میں۔بعض دفعہ ٹریفک وغیرہ کی وجہ سے بدمزگی ہو جاتی ہے، کبھی بھی موقع نہیں دینا کہ رش کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو یا آپ کسی قاعدہ قانون کو توڑنے والے ہوں غلطی اگر دوسرے کی بھی ہو تو تب بھی آپ معافی مانگ لیں۔یہی بات ہے جو آپ کے اعلیٰ اخلاق کا تصور اس علاقے میں قائم کرے گی۔اس سال علاقے کے بہت سے لوگوں کی نظریں آپ پر ہیں۔پس اپنے اعلیٰ اخلاق سے ان لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے ، جماعت کے لئے اور اسلام کے لئے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کردیں۔ایک اور بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، پاکستان سے یا دوسرے ممالک سے جو احباب آئے ہیں وہ یا درکھیں کہ سوائے ان کے جو اپنے بچوں یا انتہائی قریبی عزیزوں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں باقی جو مہمان بھی ہیں وہ جلسے کے بعد جلد از جلد واپس اپنے وطن جانے کی کوشش کریں۔جماعتی نظام کے تحت ان کی مہمان نوازی تو ہو رہی ہے لیکن مہمانوں کو بھی یہ حکم ہے کہ بلاوجہ کا بوجھ نہ بنو۔بعض لوگ اس لئے بھی لمبا ٹھہر جاتے ہیں کہ رہنے کی جگہ تو جماعت نے دے دی ہے، کچھ عرصہ ٹھہر کر کچھ کام وغیرہ کر لیں گے تاکہ کرایہ پورا ہو جائے یا کچھ پیسے کمالئے جائیں۔یہ سوچ جلسے کی نیت سے آنے والوں کی نہیں ہونی چاہئے۔اگر یہ سوچ رکھنی ہے تو جماعت کے مہمان نہ ہوں پھر اپنا انتظام خود کریں۔لیکن اس صورت میں بھی ویزے کی مدت ختم ہونے سے بہت پہلے واپس چلے جانا چاہئے۔اول تو یہ سوچ ہی غلط ہے، اکثریت نے جو ویزے لئے ہوئے ہیں وہ یہ لکھ کر دے کر آئے ہیں کہ جلسے کے لئے جارہے ہیں کیونکہ جس سے بھی میں نے پوچھا ہے اس نے یہی بتایا ہے۔ایمبسی والوں نے آپ لوگوں پر اعتماد کر کے ویزا دیا ہے اور یہ اعتماد اس لئے ہے کہ جماعت کی ایک ساکھ ہے۔پس اس بات کا بھی آپ