خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 378
خطبات مسرور جلد چہارم 378 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 لوگوں نے خیال رکھنا ہے کہ آپ کی ایسی حرکت سے جس کی قانون آپ کو اجازت نہیں دیتا جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔پس کوشش کریں کہ جس للہی مقصد کے لئے آپ نے سفر اختیار کیا ہے اس کو ہی صرف اور صرف مقصد رہنے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے، یہ دعا کریں کہ اے اللہ ہم تجھ سے اس سفر میں بھلائی اور تقویٰ چاہتے ہیں۔تو ہمیں ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے گئے سفر جب ان دعاؤں سے بھرے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے آپ کی جھولیاں بھر دے گا۔کیونکہ جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بے شمار دعائیں کی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کا وارث بنائے۔ان دنوں میں جب آپ اس نیک مقصد کو پیش نظر رکھ کر دعائیں کر رہے ہوں گے اور کوئی دنیاوی لالچ یا خواہش آپ کے پیش نظر نہیں ہوگی اور اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے اور پیچھے رہنے والے سب عزیزوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے خدا! میں پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے، نا پسندیدہ اور بے چین کرنے والے مناظر سے، مال اور اہل وعیال میں برے نتیجے سے اور غیر پسندیدہ تبدیلی سے۔تو خلوص نیت سے کی گئی یہ دعا آپ کے سفر کو ہمیشہ آسان رکھے گی اور آپ کے گھروں کو بھی خوشیوں سے بھرے گی۔اور وہ سکون اور چین اور آنکھوں کی ٹھنڈک آپ کو اپنے گھر والوں اور اولاد کی طرف سے عطا کرے گی جو دنیا کمانے کی خواہش سے آپ کو حاصل نہیں ہو سکتی۔پس ان دنوں میں اپنے آپ کو ہر وقت ہر قسم کی دعاؤں اور نیک خواہشات سے بھرے رکھنے کی کوشش کریں۔جلسہ کے پروگراموں کو غور سے اور توجہ سے سنیں ، نمازوں کے اوقات میں 100 فیصد حاضری نمازوں کی ہونی چاہئے کیونکہ اس ماحول کے آداب اور تقدس کا یہی تقاضا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا۔اب دوبارہ بھی دو ہراتا ہوں کہ ان دنوں کو بالخصوص ذکر الہی اور درود شریف پڑھتے ہوئے گزاریں کیونکہ آج امت مسلمہ پر مخالفین اسلام طاقتوں کی طرف سے ظالمانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں، ان کا مداوا آپ کی دعاؤں نے ہی کرنا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی بہت دعائیں کریں۔کچھ اور بھی بعض ہدایات میں بتاتا ہوں۔نعروں کے ضمن میں یا درکھیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نعرے نہ لگائے۔اگر کسی بات پر دل سے کوئی نعرہ پھوٹتا ہے، ایسا جوش ظاہر ہوتا ہے تو بے شک لگالیں لیکن پھر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک آدمی کی دیکھا دیکھی ہر کونے سے، ہر بلاک سے نعروں کی آواز میں آنے لگ