خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 369

خطبات مسرور جلد چہارم 369 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 خلق ہر احمدی کا خاصہ ہے، چاہے وہ یورپ میں رہتا ہو یا امریکہ میں رہتا ہو یا دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتا ہو اور اخلاقی قدریں باوجود معاشرتی روایات اور معیار زندگی مختلف ہونے کے وہی ہیں جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہیں، جس کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھائے ہیں۔پس اعلیٰ اخلاق اور مہمانوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے اور خوش خلقی سے بات کرنا یہ ان دنوں میں خاص طور پر آپ کی ایک پہچان ہونی چاہئے۔یہ بھی یا درکھیں کہ اس دفعہ انشاء اللہ یہ جلسہ نئی جگہ حديقة المھدی میں منعقد ہورہا ہے۔اس علاقے کے لوگوں کو بعض فکر میں تھیں، جب زمین لی گئی تو بہت زیادہ اس طرف سے اپوزیشن بھی ہوئی تھی ، جو جماعتی رابطوں کی وجہ سے دور کرنے کی کوشش کی گئی اور تقریباً دور ہو گئیں اور پھر انصار اللہ کی اس علاقے میں جو چیریٹی واک ہوئی ہے اس نے بھی کافی اثر کیا اور اس علاقے کے لوگوں کے شبہات کو دور کر دیا ہے۔پس اس کو مزید مضبوط کرنا بھی آپ لوگوں کا ، خاص طور پر ڈیوٹی دینے والوں کا کام ہے۔یہ خیال رکھیں کہ ٹریفک بھی صحیح طرح کنٹرول ہورہا ہو، لوگوں کی صحیح رہنمائی بھی ہو رہی ہو، علاقے کے لوگ بھی اگر آئیں تو ان پر بھی نیک اور اچھا اثر قائم ہو، تاکہ وہ آئندہ وقت میں بھی کسی قسم کے مسائل کھڑے نہ کریں۔اس لئے بعض دفعہ ڈیوٹی دینے والے اوور ایکسائیڈ (Over excited) ہو جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں کہ سامنے کون ہے۔کسی وجہ سے ٹریفک کنٹرول کرتے کرتے بعضوں سے زیادتی ہو بھی جاتی ہے تو اس بارے میں بڑی احتیاط کریں اور پہلے سے بڑھ کر اپنے نمونے دکھا ئیں۔عموماً تو اللہ کے فضل سے سارے ہی بڑے ٹرینڈ (Trained ) ہیں اور اچھی ڈیوٹیاں دینے والے ہیں۔اس دفعہ بعض ڈیوٹیاں تقسیم بھی ہوئی ہیں۔گزشتہ سال بھی ، رشمور (Rushmore) میں جلسے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔کچھ رہائش کا اور کچھ کھانے کے انتظامات کا انتظام اسلام آباد میں بھی ہوگا۔اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ اسلام آباد کے ماحول میں بھی اپنی ان روایات کو قائم رکھنا ہے جو ہمیشہ سے ہمارے کارکنان کا خاصہ رہی ہیں۔وہاں کے لوگوں کو بھی کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔عموماً وہاں لمبے عرصے تک بعض لوگوں کو شکایتیں ہوتی رہتی ہیں، کچھ تو تنگ کرنے کے لئے بھی کرتے ہیں لیکن ہمیں کسی کو بھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ دو جگہوں پر تقسیم ہونے کی وجہ سے بعض صیغوں کے جو افسران ہوں ان سے ہر وقت رابطہ نہ ہو سکے کہ وہ اسلام آباد میں نہ ہوں ، تو اس صورت میں ہر کارکن کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ذمہ دار ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے کہ سب احسن رنگ میں جلسہ کی ڈیوٹیاں ادا کرسکیں اور حضرت مسیح