خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد چہارم 368 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 کار یا کسی حوالے سے کسی دوسرے عزیز سے تعلق رکھنے والا اگر مہمان بن کر ٹھہرا ہوا ہے تو اس سے وہ ان قریبیوں والا سلوک نہیں ہوتا۔تو یا درکھیں کہ ان کا بھی اسی طرح خیال رکھیں۔جب مہمان نوازی کی ذمہ داری اپنے سپر دلی ہے تو ان کا بھی اسی طرح خیال رکھنا ہوگا جس طرح اپنے قریبیوں کا رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دوسروں کی تکلیف کا کتنا احساس تھا ، ایک روایت میں اس کا ذکر آتا ہے کہ گورداسپور کے سفر میں، جو مقدمے کے لئے کیا گیا تھا ( کچھ جمعے پہلے میں نے اس سفر کی تفصیل بتائی تھی ) بہت سے احباب بھی آپ کے ساتھ تھے اور اس مقدمے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے آنے کو حضور علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ یہ میری وجہ سے آئے ہیں اور اس لحاظ سے میرے مہمان ہیں۔بابو غلام محمد صاحب آپ کے ایک صحابی تھے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم گورداسپور پہنچے، سردی کے دن تھے تو رات کو کھانے کے بعد حضور نے ہم سب کو حکم دیا کہ تھکے ہوئے ہو سو جاؤ۔کہتے ہیں ہم سب اپنے اپنے بستر بچھا کر لیٹ گئے تو کچھ دیر بعد ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام خاموشی سے اٹھے اور لالٹین ہاتھ میں لے کر ہاتھ سے ٹول ٹول کر جو سوئے ہوئے لوگ تھے ہر ایک کے بستر کا جائزہ لینے لگے اور جس کے بستر کو بھی ہلکا دیکھا ( ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ، باہر سردی تھی) اس پر اپنے بستر سے کوئی نہ کوئی چادر یا کمبل یا موٹا کپڑا لا کر ڈال دیتے تھے۔کہتے ہیں کہ اس طرح چھ سات لوگوں کو اپنے بستر کی مختلف چیزیں دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈھانکا۔تو آپ کو یہ فکر اس لئے تھی کہ یہ لوگ آپ کی خاطر آئے ہوئے ہیں۔تاریخ احمدیت لاہور صفحہ 210) پس آج ہمارا فرض ہے کہ اس سنت کو قائم رکھتے ہوئے آپ کی خاطر ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خاطر آئے ہوئے لوگوں کی بھر پور مہمان نوازی کریں۔اس دفعہ پاکستان میں تو برٹش ایمبیسی نے کافی کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے اور کافی لوگوں کو ویزے دیئے ہیں، اللہ ان کو جزا دے۔اب ہمارے مہمان نوازی کے نظام کا بھی اور یہاں کے لوگوں کا بھی یہ فرض ہے کہ جہاں بھی آنے والے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی مہمان نوازی کے اعلیٰ نمونے قائم کریں۔ہمارے دیہاتوں کے لوگ آج بھی بہت مہمان نواز ہیں۔شہروں سے رابطوں کی وجہ سے بعض برائیاں بھی ان میں آگئی ہیں، بعض اچھی باتیں ختم بھی ہوگئی ہیں لیکن ابھی بھی مہمان نوازی کا جو وصف ہے دیہاتوں میں قائم ہے اور یہ دنیا میں تقریباً ہر جگہ ہے۔اس لئے ان آنے والے مہمانوں کو اپنی مہمان نوازی کے نمونوں سے بتائیں کہ اعلیٰ اخلاق اور مہمان نوازی کا جو خُلق ہے صرف پاکستان یا دوسرے غریب ملکوں کے دیہاتوں کے رہنے والوں کا خلق نہیں ہے بلکہ اس زمانے کے امام کو ماننے کے بعد یہ