خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 237
خطبات مسرور جلد چهارم 237 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء میں بھی احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملے گی جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے نیک اثر بھی قائم ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے اپنی نسلوں کی بقا کے لئے نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کرنے کا بھی حکم ہے۔فرماتا ہے ﴿انْفِقُوْا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ ( التغابن : 17) کہ اپنے مال اس راہ میں خرچ کرتے رہو یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر رہے گا۔اسی طرح اور بے شمار جگہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے حکم کے ساتھ مالی قربانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔اور آج کل کے زمانے میں جب انسان کی اپنی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں۔قسم ہا قسم کی ایجادات کی وجہ سے انسانی ترجیحات اور خواہشات بھی مختلف ہو چکی ہیں۔ان حالات میں مالی قربانیاں یقیناً بہت اہمیت کی حامل ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ساتھ مالی قربانیوں کی اس زمانے میں ویسے بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔یقیناً یہ نفسوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے اس طرف بھی توجہ دیں۔یہ قربانیاں آپ کی اور آپ کی نسلوں کی دنیا و آخرت سنوارنے کی ضمانت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ مختلف پیرایوں میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف جگہوں پر مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک سوال کرنے والے کے یہ پوچھنے پر کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لیجائے اور آگ سے دور کر دے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ا سکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔اور نمبر 2 یہ کہ نماز پڑھ اور زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر۔یعنی رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کرو۔(صحیح بخارى كتا الادب باب فضل صلة الرحم حديث نمبر (5983 عبادت اور نماز کے بارے میں میں نے پہلے کچھ تھوڑی سی تفصیل بتائی ہے۔پھر اس کے بعد زکوۃ کا حکم آتا ہے۔یہ جو ز کوۃ ہے یہ مالی قربانی ہے۔ایک تو جن پر زکوۃ واجب ہے، اصل تعریف کے لحاظ سے جوز کوۃ کی ہے، ان کو زکوۃ دینی چاہئے دوسرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ہوتا رہا ہے زکوۃ کے علاوہ بھی ضرورت پڑنے پر آپ مالی تحریک فرمایا کرتے تھے اور اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق صحابہ مالی قربانیاں کیا کرتے تھے تو اس زمانے میں بھی اسی سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیعت میں آنے والوں کے لئے لازمی قرار دیا ہے کہ با قاعدگی سے مالی قربانی کریں اور چندے دیں۔اور پھر بعد میں خلفاء نے اس کو با قاعدہ معین نظام کی شکل دے دی۔پس ہمیشہ ہر احمدی کو یا د رکھنا چاہئے کہ مالی قربانی اس کے اپنے فائدے کے لئے ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ﴾ (البقرہ۔196 ) اور اللہ کے راستے میں جان مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔پس اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ترجیحات بدل گئی ہیں یا بدل رہی نہیں۔جانی اور مالی قربانیوں کی بہت اہمیت ہے۔kh5-030425