خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 194

194 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ہونے والوں کے لئے آپ نے بے شمار دعائیں کی ہیں۔اور اس نظام میں شامل ہونے والوں، بلکہ جماعت کو تقویٰ پر قدم مارنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں نصیحت کرتے ہوئے کہ: خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ : ” تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔تقویٰ ایک ایسی جڑ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ بیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 307) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : "تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اسکی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے موقعہ ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پائیں۔“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 309-308) اللہ تعالیٰ کے فضل سے دسمبر 2005ء میں حضرت مسیح موعود کے نظام وصیت کو جاری ہوئے 100 سال پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا اور 2004 ء کے جلسہ UK میں میں نے تحریک کی تھی کہ 2005 ء میں 100 سال پورے ہوں گے تو کم از کم 50 ہزار موصیان ہونے چاہئیں۔تو جیسا کہ میں جلسہ سالانہ قادیان میں اعلان کر چکا ہوں کہ اللہ کے فضل سے یہ تعداد پوری ہو چکی ہے بلکہ اس تعداد سے بہت آگے جاچکے ہیں۔اب تو جماعتیں اپنا اگلا ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔لیکن یہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کے لئے میں جو بات بتانے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کی جو تاریخ مرتب ہوئی ہے اس کے مطابق حضرت صوفی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ بیرون ہندوستان نظام وصیت میں شامل ہونے والے اولین موصی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب وصیت کا اعلان فرمایا تو اس کے تین مہینے کے بعد ہی انہوں نے وصیت کر دی تھی اور اس طرح آپ کی وصیت مارچ 1906 ء کی ہے۔پھر اس لحاظ سے اس ملک میں یعنی اس بر اعظم میں نظام وصیت کے پہلے پھل کو بھی 100 سال ہو گئے ہیں۔یہ اپریل کا مہینہ ہے۔صرف ایک مہینہ ہی اوپر ہوا ہے۔حضرت صوفی صاحب نے یقینا ایک تڑپ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دروازے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔اور یقینایہ کا میاب کوشش تھی ، کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجام بخیر ہونے کی خبر الہاما دی تھی۔اور آپ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے بھی وارث بنے جو آپ نے اس نظام میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں اور kh5-030425