خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 164
خطبات مسرور جلد چهارم 164 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین ہی نہیں ہے۔(الترغيب و الترهيب جلد نمبر اول حدیث نمبر 820 الترهيب من ترك الصلوة تعمدا و اخراجها۔۔۔۔۔طبع اول 1994 دار الحديث قاهره تو ایک عام احمدی کے لئے جب نمازوں کی ادائیگی فرض ہے تو عہد یدار جو ہر لحاظ سے افراد جماعت کے لئے نمونہ ہونا چاہئیں ان کے لئے تو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو سوائے کسی اشد مجبوری کے۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ یہ جو دو تین دن شوری کے لئے آتے ہیں اور آئے ہیں، ان میں صرف یہی نہیں کہ ان دنوں میں ہی یہیں نمازیں پڑھنی ہیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ ہر نمائندے کو ، ہر عہد یدار کو، با قاعدہ نماز با جماعت کا عادی ہونا چاہئے۔خود اپنے جائزے لیں، اپنا محاسبہ کریں، دین کی سربلندی کی خاطر آپ کے سپرد بعض ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔اگر ان میں دین کے بنیادی ستون کی طرف ہی توجہ نہیں ہے تو خدمت کیا کریں گے اور مشورے کیا دیں گے۔جو دل عبادتوں سے خالی ہیں ان کے مشورے بھی تقویٰ کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔پھر بندوں کے حقوق ہیں۔نمائندگان اور عہدیداران کو اپنے دلوں کو ہر قسم کی برائیوں اور رنجشوں سے پاک کرنا ہوگا، لین دین کے معاملے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ ہمسائے سے حسن سلوک کا خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ صحابہ کو خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارے دورثہ میں حصہ دار بننے والے ہیں۔(صحیح بخارى كتاب الادب باب الوصاة بالجار حديث (6015 تو جب اتنی تاکید ہے ہمسائے سے حسن سلوک کی تو یہ کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جن کے سپر د جماعتی ذمہ داریاں کی گئی ہیں وہ اپنے ہمسایوں کے لئے دکھ کا باعث ہوں اور ہمسائے ان کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوں۔یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمسائے کی تعریف یہ کی ہے کہ تمہارے دینی بھائی بھی تمہارے ہمسائے ہیں۔یعنی ہر احمدی ہمسایہ ہے۔عہد یداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر احمدی ان کا ہمسایہ ہے اور اگر کسی احمدی کو آپ کی وجہ سے کوئی تکلیف یا دکھ پہنچتا ہے تو یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ایک عام احمدی جب دوسرے احمدی کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے تو گو یہ بھی بڑی تکلیف والی بات ہے لیکن وہ معاملہ ان دو اشخاص کے درمیان رہتا ہے لیکن جب ایک ذمہ دار جماعت کی خدمت کرنے والے سے کسی کو دکھ پہنچتا ہے یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ایک عام احمدی کو بعض اوقات دین سے دور لے جانے والی بھی بن جاتی ہے وہ اس کی ٹھوکر کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سارے بنیادی kh5-030425