خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 165
165 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم اخلاق ہیں جو جماعتی خدمتگاروں کے لئے چاہے وہ نمائندگان شوریٰ ہوں یا عہد یدار ہوں یا واقفین زندگی ہوں، سب کو ان کے اعلیٰ نمونے دکھانے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔بعض باتیں چونکہ نمائندگان شوری کے علاوہ بھی خدمتگاروں کے لئے ضروری تھیں اس لئے میں نے سب کو توجہ دلائی ہے کیونکہ یہ عہدیداروں کے اچھے نمونے ہیں جن کو دیکھ کر پھر جماعت میں بھی اچھے نمونے قائم ہوں گے۔پھر ایک اور بات جس کی طرف نمائندگان شوری اور دوسرے کارکنان کو توجہ دلانی چاہتا ہوں، وہ خلیفہ وقت کی اطاعت ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا آیا ہوں کہ شوری کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانا نمائندگان شوری اور عہدیداران کا کام ہے۔اور کیونکہ یہ فیصلے خلیفہ وقت سے منظور شدہ ہوتے ہیں اس لئے اگر ان پر عملدرآمد کروانے کی طرف پوری توجہ نہیں دی جارہی تو غیر محسوس طریقے پر خلیفہ وقت کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کے دائرے کے اندر نہیں رہ رہے ہوتے جبکہ جن کے سپر د ذمہ داریاں کی گئی ہیں ان کو تو اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھانے چاہئیں جو کہ دوسروں کے لئے باعث تقلید ہوں، نمونہ ہوں۔پس یہ جو خدمت کے موقعے ملے ہیں ان کو صرف عزت اور خوشی کا مقام نہ سمجھیں کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور بڑی عزت کی بات ہے ہمیں خدمت کا موقع مل گیا۔اس کے ساتھ جب تقوی کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے تب یہ عزت اور خوشی کی بات ہوگی اور تب یہ عزت اور خوشی کے مقام بنیں گے۔ایک بات میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں ، شوری کے ممبران کے لئے دوبارہ یاد دہانی کروارہا ہوں کہ شوری کی بحث کے دوران جب اپنی رائے دینا چاہتے ہیں تو رائے دینے سے پہلے اس تجویز کے سارے اچھے اور برے پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے دیں نہ کہ کسی دوسرے رائے دینے والے کے فقرہ کو اٹھا کر جوش میں آجائیں۔سمجھ بوجھ رکھنے والی شرط بھی اسی لئے رکھی گئی ہے کہ ہوش وحواس میں رہتے ہوئے رائے دیں۔اور دوسری بات یہ کہ اظہار رائے کے وقت کسی کے جوش خطابت سے متاثر ہوکر اس طرف نہ جھک جائیں۔یا اپنی کسی پسندیدہ شخصیت کی رائے سن کر اس پر صاد نہ کر دیں، اس کی بات نہ مان لیں۔بلکہ رائے کو پرکھیں اور اگر معمولی اختلاف ہو تو بلا وجہ کج بحثی کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن اگر واضح فرق ہو، آپ کے پاس زیادہ مضبوط دلیلیں ہوں یا دوسرے کی دلیل زیادہ اچھی ہو تو ضروری نہیں وہاں کسی رائے دینے والے سے تعلق کا اظہار کیا جائے۔بہر حال آخر میں پھر یہی کہتا ہوں کہ جب شوری میں بحثوں کے بعد آپ ایک رائے قائم کر لیتے ہیں اور اس پر خلیفہ وقت کا فیصلہ لے لیتے ہیں چاہے وہ آپ لوگوں کی رائے مان لینے کی صورت میں ہو یا کسی تبدیلی کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صورت میں۔جب یہ جماعتوں کو عملدرآمد کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے تو امانت کا حق اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ وقت کا دست و بازو بن کر اس پر عملدرآمد میں جت جائیں، نہ kh5-030425