خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد چهارم 158 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء حالات کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے مشورہ رڈ بھی کرنا پڑتا ہے۔تو پھر یہ ڈرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا نہ ہو جائے ، ویسا نہ ہو جائے۔پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا اس پر عمل کرو۔اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اس حوالے سے اُس ماحول کی بھی نشاندہی کر دی اور ہمیں وہ طریقہ بھی بتا دیا جو جماعت کا ہونا چاہئے۔یہاں مخاطب گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن مراد امت سے ہے۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں خاص طور پر اس زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے بعد خلافت نے دائمی طور پر قائم ہونا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا یا جو ارشاد فرمایا گیا ہے، اصل میں تو یہ جماعت کے لئے ہے اُمت کے لئے بھی ہے لیکن جماعت کے افراد کے لئے بھی ہے۔ان کو یہ یاد رکھنا چاہئے اس میں عہدیداران بھی آ جاتے ہیں۔سب سے بڑا مخاطب خلیفہ وقت ہوتا ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نرمی ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے دل میں بھی نرمی ہوتی ہے اور جب تک خلافت کا نظام علی منہاج نبوت رہے گا اور خلافت کا نظام علی منہاج نبوت کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو چکا ہے اور جب تک یہ نظام رہے گا خلیفہ وقت کے دل میں افراد جماعت کے لئے نرمی بھی رہے گی، انشاء اللہ تعالٰی اور جیسا کہ میں نے کہا یہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو گیا ہے اور یہ ایک دائمی نظام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سب کچھ کسی کی کوششوں سے نہیں ہوگا یا اپنی طبیعتوں میں خود بخود تبدیلی پیدا نہیں ہوگی بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی خاص رحمت اور فضل سے ہوتا ہے اور ہو گا۔اور خلافت کا یہ نظام اور پھر جماعت کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں سے چلتا رہے گا۔اور افراد جماعت کا بھی خلافت کے ساتھ جو تعلق ہے وہ بھی اس نظام خلافت کے چلنے کی وجہ سے جاری رہے گا اور یہ تعلق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہی جماعت کے افراد کے اندر پیدا کیا ہوا ہے۔خلافت سے جو جوش اور محبت جماعت کو ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ہے۔یہ دو طرفہ بہاؤ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے جماعت میں قائم ہے۔یعنی خلیفہ وقت کو یہ حکم ہے کہ دین کے اہم کاموں میں اُمت کے لوگوں سے مشورہ لو۔نرم دل رہو اور دعا کرو۔لوگوں کو یہ حکم ہے کہ جب مشورہ مانگا جائے تو نیک نیت ہو کر تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے مشورہ دو۔اس لئے حکم ہے کہ جن سے مشورہ لیا جائے وہ نیک ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں ہر ایک سے مشورہ لینے کا حکم نہیں ہے۔اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شَاوِرُوا الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِيْنِ (کنزالاعمال جلد 2 جزو 3 كتاب الاخلاق حرف ميم المشورة نمبر 7188 طبع ثاني 2004ء کہ سمجھدار اور عبادت گزارلوگوں سے مشورہ کرو۔اس لئے جماعت میں یہ طریق رائج ہے کہ ایسے وگ جو بظاہر نظام جماعت کے پابند بھی ہوں ، مالی قربانی کرنے والے بھی ہوں، عبادتیں کرنے والے kh5-030425