خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 7

خطبات مسرور جلد چهارم 7 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء اس کا پورا ہونے کا وقت آیا تو اس بارے میں مجھے صدر لجنہ لاہور نے ایک رپورٹ دی۔انہوں نے بھی اپنی لجنہ کو تحریک کی تو اس وقت ایک بچی نے اپنی جہیز کی رقم میں سے بہت بڑی رقم ادا کر دی اور پرواہ نہیں کی کہ جہیز اچھا بنتا ہے کہ نہیں بنایا بنتا بھی ہے کہ نہیں۔اور وہ بچی اس جلسے پہ قادیان بھی آئی تھی اور مجھے ملی۔تو ایسے لوگ اس زمانے میں بھی ہیں جو اپنے مال اور نفس کا جہاد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس بچی کی بھی شادی ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے ، بابرکت فرمائے اور اس قربانی کے بدلے میں اسے اتنا دے کہ اس سے سنبھالا نہ جائے اور پھر اس میں برکت کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی طرف راغب ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے بے شمار قربانیاں کرنے والے جماعت کو دیتا چلا جائے۔اور وہ فرشتوں کی دعاؤں کے بھی وارث ہوں کہ اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے سخنی کو اور دے اور اس جیسے اور پیدا کرتا چلا جائے۔پس مالی قربانی کرنے والے ہر جگہ سے دعائیں لے رہے ہوتے ہیں۔اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے اور جنت کے وارث بن رہے ہوتے ہیں۔اللہ کرے کہ جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بے شمار جگہ مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو“۔(بخارى كتاب الزكوة۔باب اتقوا النار ولو بشق تمرة : حديث (1417 یعنی اللہ کی راہ میں قربانی کرو چاہے آدھی کھجور کے برابر ہی کرو۔پس یہ جو وقف جدید کا چندہ ہے اس میں تو ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ضرور اتنی رقم ہونی چاہئے۔غریب سے غریب بھی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔جب مالی قربانی کریں گے تو پھر دعائیں بھی لے رہے ہوں گے۔فرشتوں کی دعائیں بھی لے رہے ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اس قربانی کی وجہ سے حالات بہتر فرمائے گا۔پس ہر احمدی کو مالی قربانی کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔نو مبائعین کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو اپنے نفس کی اصلاح کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کی جائے ، اس میں ضرور شامل ہوا جائے۔kh5-030425